قبضہ کے بغیر دی گئی رقم وراثت بنتی ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ماں کو دینے کے لیے رقم رکھی لیکن قبضہ سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بیٹا پردیس میں رہتا تھا، اور اس نے اپنی ماں سے کہا کہ: ماں! میں اپنی کمائی میں سے ایک رقم آپ کے لیے رکھ رہا ہوں، آپ لے لیں، لیکن ماں نے کہا کہ: جب تم واپس آؤ گے، تب تم سے لوں گی، ابھی اپنے پاس رکھو! یہ بات صرف ماں اور بیٹے میں ہوئی، تیسرا کوئی نہیں جانتا، اب اس کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے، تو اب وہ جو رقم ہے، کیا وہ ماں کی وراثت میں جائے گی یا نہیں؟ اور اس کا استعمال کیسے کرے؟ کیا اپنی ذات پہ اس میں سے کوئی پیسہ لگا سکتا ہےیا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں جب اس رقم پر ماں کو اس کی زندگی میں قبضہ نہیں دیا گیا، تووہ رقم ماں کی وراثت نہیں، بنی بلکہ اس رقم کا بیٹا ہی مالک ہے، وہ جس طرح چاہے اس کا جائز استعمال کرے۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ:
شرعاً کسی چیز کا ہبہ (یعنی تحفہ) مکمل ہونے کے لیے قبضہ ضروری ہوتا ہے، اگر ہبہ مکمل ہونے سے پہلے واہب (یعنی تحفہ دینے والے)، یا موہوب لہ (یعنی جسے تحفہ دیا گیا) میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے، تو ہبہ باطل ہو جاتا ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ ماں نے اس رقم پر قبضہ نہیں کیا، اور ماں کا انتقال ہو گیا، اس لیے وہ رقم شرعاً ماں کی ملکیت نہیں بنی، بلکہ بدستور وہ بیٹے ہی کی ملک ہے، اور مالک اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرسکتاہے۔
ہبہ مکمل ہونے کے لیے قبضہ ضروری ہوتاہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے
(و تتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل
ترجمہ: ہبہ قبضۂِ کاملہ کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں:
يشترط القبض قبل الموت
ترجمہ: موت سے پہلے قبضہ کرنا شرط ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الھبۃ، جلد 8، صفحہ 573، مطبوعہ: کوئٹہ)
ہبہ تام ہونے سے پہلے واہب یا موہوب لہ میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو ہبہ باطل ہو جاتا ہے۔ اس کے متعلق تنویر الابصار اور الدر المختار میں ہے
(موت احد العاقدین) بعد التسلیم، فلو قبلہ بطل
ترجمہ: فریقین (واہب اور موہوب لہ) میں سے کسی ایک کی موت موہوبہ چیز سپرد کرنے کے بعد ہو تو یہ (رجوع سے مانع ہے) اور اگر سپرد کرنے سے پہلے ہو تو ہبہ باطل ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 8، صفحہ 590، 591، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہل سنت،امام احمدرضاخان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: اگر ہبہ صحیحہ میں واہب بے قبضہ دیئے مرجائے، تو ہبہ باطل ہو جاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 191، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اپنے مملوکہ اموال میں ہر طرح کا جائز تصرف روا ہونے کے متعلق امام فخرالدين زیلعی حنفی علیہ الرحمہ تبیین الحقائق میں لکھتے ہیں:
ثم اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا
ترجمہ: پھر جان لو کہ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے، جب تک کہ اس کا تصرف دوسرے کو واضح نقصان نہ پہنچائے۔ (تبیین الحقائق، جلد 4، صفحہ 196، دار الکتاب الاسلامی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4715
تاریخ اجراء: 19رجب المرجب1447ھ / 09 جنوری2026ء