logo logo
AI Search

وراثت میں سوتیلی اولاد کا حصہ ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وراثت میں سوتیلی اولاد کے حصے کے متعلق تفصیل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا وراثت میں سوتیلی اولاد کا حصہ نہیں ہوتا ہے؟

جواب

سوتیلی اولاد شرعی طور پر وراثت کی حق دار نہیں، کیونکہ وراثت کا دار و مدار نسبی رشتہ داری، نکاح اور ولا (یعنی عتاق و مُوالات) پر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے”﴿وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ مِنْكُمْؕ-وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴾“ ترجمہ کنزالعرفان: اور جو اس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں (وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (القرآن الکریم، پارہ 10، سورۃ الانفال، آیت 75)

اس آیت کے تحت تفسیر خازن میں ہے ”كانوا يتوارثون بالهجرة والاخاء حتى نزلت هذه الآية: ﴿وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ﴾ ای في الميراث ای فبين بهذه الآية ان سبب القرابة اقوى و اولى من سبب الهجرة و الاخاء و نسخ بهذه الآية ذلك التوارث“ ترجمہ: صحابہ کرام علیہم الرضوان ہجرت اور اخوت کی بنا پر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: اور (نسبی) رشتے دار وراثت میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، یعنی اس آیت میں بیان کیا گیا کہ (نسبی) رشتے دار ہجرت اور اخوت کے مقابلے میں وراثت میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں اور اس آیت کے ذریعے ہجرت اور اخوت کی وجہ سے وراثت میں حق داری منسوخ فرما دی گئی۔ (تفسیر خازن، جلد 2، صفحہ 331، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صراط الجنان میں ہے ”اب وراثت کا دار و مدار نسبی قرابت داری پر ہے، جیسا کہ آیت ”وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ“ سے واضح ہے۔ رضاعی رشتے کی وجہ سے کوئی ایک دوسرے کا وارث نہیں اور سسرالی رشتے میں بھی صرف شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے وارث ہیں۔“(صراط الجنان، جلد 4، صفحہ 56، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وراثت کے اسباب کے متعلق الاختیار لتعلیل المختار میں ہے ”يستحق الارث برحم ونكاح و ولاء“ ترجمہ: استحقاقِ وراثت نسبی رشتہ داری، نکاح اور ولاء (یعنی عتاق و مُوالات) کی بنا پر ہوتا ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 5، صفحہ 86، مطبوعہ: قاہرة)

سوتیلی اولاد وراثت کی مستحق نہیں، جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہی ہے ”اگر مراد سائل کی یہ ہے کہ اس صورت میں زید کو اپنی اس خالہ کے ترکہ سے بوجہ متبنی (لے پالک) یا سوتیلے بیٹے ہونے کے کچھ پہنچے گا یا نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ کچھ نہیں کہ متبنی یا سوتیلا بیٹا ہونا، شرعاً ترکہ میں کوئی استحقاق نہیں پیدا کرتا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 84، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

 فتاوٰی خلیلیہ میں ہے ”سوتیلے ماں باپ اور سوتیلی اولاد میں وراثت کے احکام جاری نہیں ہوتے، لہذا زوجہ کی جو اولاد پہلے کسی شوہر سے موجود ہو، اپنے سوتیلے باپ کے مال متروکہ سے کسی حصہ کی مستحق نہیں۔“ (فتاوٰی خلیلیہ، جلد 03، صفحہ 437، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5145
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ/27 جون 2026ء