logo logo
AI Search

ذبح میں چھری بدلنے پر دوبارہ تسمیہ ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جو چھڑی پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اس کے علاوہ سے جانور ذبح کیا تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص نے تسمیہ پڑھ کر جانور کو ذبح کرنا شروع کیا، پھر اس کے چھری کے تیز نہ ہونے کی وجہ سے اس کو رکھ دیا اور بغیر کسی وقفے کے فوراً دوسری تیز چھری اٹھا کر اس سے جانور کے ذبح کو مکمل کر لیا، لیکن اس نئی چھری پر تسمیہ نہیں پڑھا، تو اب یہ جانور حلال شمار ہو گا یا حرام؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں یہ جانور حلال ہی شمار ہو گا، کیونکہ اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں اس جانور کو حلال قرار دیا ہے، جس کو ذبح کرتے وقت اس پر تسمیہ پڑھی گئی ہو (یعنی ایسی صورت میں تسمیہ کا تعلق جانور سے ہوتا ہے نہ کہ ذبح کے آلے یعنی چھری وغیرہ سے) اور مذکورہ جانور پر بھی اس کو ذبح کرتے وقت تسمیہ پڑھ لیا گیا ہے، تو محض چھری تبدیل کر لینے سے دوبارہ تسمیہ پڑھنا لازم نہیں ہو گا، بلکہ اسی پہلے تسمیہ سے ہی جانور حلال ہو جائے گا۔

ا لبتہ جانور کو ابتداء ہلکی دھار والی چھری سے ذبح کرنا، اس کو تکلیف دینا ہے، جس کو شریعتِ مطہرہ نے مکروہ و ناپسند قرار دیا ہے اور حکم ارشاد فرمایا ہے کہ جانور کو ذبح کرتے وقت چھری تیز کر لی جائے اور جس قدر کم سے کم تکلیف کے ساتھ اس کوذبح کرنا ممکن ہو، اس کا اہتمام کیا جائے۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے:

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ

ترجمۂ کنز العرفان: تو اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔ (پارہ 8، سورۃ الانعام، آیت 118)

یونہی فتاوی عالمگیری میں ہے:

و منها أن يريد بها التسمية على الذبيحة

ترجمہ: اور ذبح کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ تسمیہ پڑھتے وقت ذبیحہ (ذبح کئے جانے والے جانور) پر تسمیہ پڑھنے کا ارادہ کرے۔ (الفتاوی العالمگیریہ، جلد 5، صفحہ 276، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر)

دورانِ ذبح چھری تبدیل کرنے کے متعلق منحۃ السلوک میں ہے:

(و لو أضجع شاة وسمى، ثم رمى السكين و ذبح بأخرى) أي بسكين أخرى (حل) لعدم تعلق التسمية بالآلة

اگر بکری کو لٹا کر تسمیہ پڑھا ، پھر (ہاتھ میں موجود) چھری کو پھینک دیا اور دوسری چھری سے ذبح کیا، تو جانور حلال شمار ہو گا، کیونکہ تسمیہ کا تعلق ذبح کے آلے سے نہیں۔ (منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک، صفحہ 392، مطبوعہ قطر)

یونہی بہارِ شریعت میں ہے: ذبح اختیاری میں شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھے یہاں مذبوح پر بسم اللہ پڑھی جاتی ہے یعنی جس جانور کو ذبح کرنے کے لیے بسم اللہ پڑھی اوسی کو ذبح کرسکتے ہیں دوسرا جانور اس تسمیہ سے حلال نہ ہوگا مثلاً بکری ذبح کرنے کے لیے لٹائی اور اس کے ذبح کرنے کوبسم اللہ پڑھی مگر اس کو ذبح نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کر دی یہ حلال نہیں ہوئی یہ ضرور نہیں کہ جس چھری سے ذبح کرنا چاہتا تھا اور بسم اللہ پڑھ لی تو اوسی سے ذبح کرے بلکہ دوسری چھری سے بھی ذبح کرسکتا ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 318، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ذبح کرتے وقت چھری تیز رکھنے اور جانور کو راحت مہیا کرنے کے متعلق حدیثِ پاک میں ہے:

و إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، و ليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته

یعنی جب تم ذبح کرنے لگو، تو اچھا طریقہ اختیار کرو اور جو کوئی ذبح کرے، تو وہ چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحے کے لیے راحت (سہولت) کا اہتمام کرے۔ (صحیح مسلم، جلد 6، صفحہ 73، مطبوعہ دار الطباعۃ العامرہ)

یونہی فتاوی عالمگیری میں ہے:

و القاطعة على ضربين حادة و كليلة، فالحادة يجوز الذبح بها من غير كراهة۔۔۔ و الكليلة يجوز الذبح بها و يكره

ترجمہ: ترجمہ: اور ذبح کا آلہ دو طرح کا ہے: تیز دھار اور کند۔ تیز دھار سے ذبح کرنا بلا کراہت جائز ہے، جبکہ کند آلے سے ذبح کرنا جائز تو ہے، مگر ایسا کرنا مکروہ (ناپسندیدہ) ہے۔ (الفتاوی العالمگیریہ، جلد 5، صفحہ 276، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر)

بہارِ شریعت میں ہے: مستحب یہ ہے کہ ذبح سے پہلے چھری تیز کر لے کند چھری یا ایسی چیزوں سے ذبح کرنے سے بچے جس سے جانور کو ایذا ہو۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 318، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9651
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاخری 1447ھ/28 نومبر 2025ء