logo logo
AI Search

ذبح کے وقت جانور کا رخ کس طرف کیا جائے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جانور کو ذبح کرتے وقت کس رخ لٹانا چاہیے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جانور کو ذبح کرنے کے لیے کس طرح لٹانا چاہئے؟

جواب

سنّت یہ چلی آرہی ہے کہ ذَبْح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں، پاک و ہند میں قِبلہ مغرِب (WEST) میں ہے، اس لئے جانور کا سر، جُنُوب (SOUTH) کی طرف ہونا چاہئے، تاکہ جانور بائیں (یعنی الٹے) پہلو لیٹا ہو، اور اس کی پیٹھ مشرِق (EAST) کی طرف ہو، تاکہ اس کا مُنہ قبلے کی طرف ہو جائے، اور ذَبْح کرنے والا اپنا دائیاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں (یعنی سیدھے) حصّے (یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے، اور ذَبْح کرے، اور خود اپنا یا جانور کا مُنہ قبلے کی طرف کرنا ترک کیا، تو مکروہ ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے ”سنت متوارثہ آن ست کہ روئے خود و روئے ذبیحہ ہر دو سوئے قبلہ کند، و سر ذبیحہ در بلاد ما کہ قبلہ سوئے مغرب ست جانب جنوب بود تاذبیحہ بر پہلو چپ خودش خوابیدہ باشد، وپشت او جانب مشرق، تاروئے سمت قبلہ بود، وذابح پائے راست خود برصفحہ  راست گردنش نہادہ ذبح کند، اگر توجہ یا توجیہ بہ قبلہ ترک کند مکروہ است (سنت یہ چلی آرہی کہ ذبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رو ہوں، ہمارے علاقہ میں قبلہ مغرب میں ہے اس لئے سر ذبیحہ جنوب کی طرف ہونا چاہئے تاکہ جانور بائیں پہلو لیٹا ہو اور اس کی پیٹھ مشرق کی طر ف ہو تاکہ ا س کا منہ قبلہ کی طرف ہوجائے، اور ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں جانورکی گردن کے دائیں حصہ پر رکھے اور ذبح کرے اور خود اپنا یا جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے۔ت) (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ  216، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4766
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک1447ھ/23 فروری 2026ء