logo logo
AI Search

جانور ذبح کرتے ہوئے تیسری رگ آدھی کٹی تو ذبح کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جانور ذبح کرتے ہوئے تیسری رگ آدھی اور چوتھی بالکل نہیں کٹی تو کیا حکم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بکری ذبح کی گئی اور ذبح میں اس کی چار رگوں میں سے دو مکمل، جبکہ تیسری رگ آدھی کٹ گئی اور چوتھی بالکل بھی نہیں کٹی۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس بکری کا گوشت حلال ہے یا نہیں ؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس بکری کا گوشت حلال نہیں۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ ذبح میں چار رگیں کاٹی جاتی ہیں۔(1)حلقوم: یعنی سانس کی نالی۔(2)مری: یعنی کھانے کی رگ ۔ (3، 4) ودجین:  یعنی گردن کے دونوں جانب دو رگیں، جن میں خون جاری ہوتا ہے۔ ان چار رگوں کے کٹنے سے جانور کامل اور مسنون طریقے کے مطابق ذبح ہوجاتا ہے۔ اور اگر چاروں رگیں نہ کٹیں، تو کم از کم تین مکمل رگیں کٹنا ضروری ہے۔ اب صورت مسئولہ میں ایک رگ تو بالکل بھی نہیں کٹی اور بقیہ تین میں سے بھی فقط دو ہی مکمل کٹی ہیں، لہذا وہ گوشت حلال نہیں ہو گا۔

ذبح میں کاٹی جانے والی چار رگوں کے متعلق فتاویٰ عالمگیری اور النتف فی الفتاوی میں ہے:

واللفظ للاول: ” والعروق التی تقطع فی الذکاۃ أربعۃ: الحلقوم وھو مجری النفس والمری وھو مجری الطعام والودجان وھما عرقان فی جانبی الرقبۃ یجری فیھما الدم“

ترجمہ: وہ رگیں جو ذبح شرعی میں کاٹی جاتی ہیں، چار ہیں: (1) حلقوم: یہ سانس کی نالی ہے۔(2) مری: وہ کھانے کی رگ ہے۔ (3، 4) ودجین :  یعنی گردن کے دونوں جانب دو رگیں، جن میں خون جاری ہوتا ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الذبائح، جلد 5، صفحہ 287، مطبوعہ، پشاور)

اسی بارے میں صدرالشریعہ بدرالطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جو رگیں ذبح میں کاٹی جاتی ہیں وہ چار ہیں۔ حلقو ؔ م یہ وہ ہے جس میں سانس آتی جاتی ہے، مریؔ اس سے کھانا پانی اوترتا ہے، ان دونوں کے اغل بغل اور دو رگیں ہیں جن میں خون کی روانی ہے، ان کو ود جین کہتے ہیں۔ “ (بہار شریعت، جلد3، صفحہ312، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ان چار رگوں کے کٹنے سے جانور مسنون اور کامل طریقےکے مطابق ذبح ہوجاتا ہے۔ چنانچہ فتاوی قاضی خان اور شرح مختصر الکرخی میں ہے:

واللفظ للآخر: والذكاة: فري الأوداج، والأوداج أربعة: الحلقوم، والمريء، والعِرقان اللذان بينهما الحلقوم والمريء، فإذا أفرى المذكي ذلك أجمع، فقد أكمل الذكاة المأمور بها على تمامها وسننها

ترجمہ: ذبح رگوں کے کٹنےکا نام ہے اور رگیں چار ہیں: حلقوم، مری اور دو رگیں جن دوکے درمیان حلقوم اور مری ہوتی ہیں، جب ذبح کرنے والے نے ان تمام کو کاٹ لیا تو تحقیق جانور مامور بہ (جانور ذبح کرنے کے بتائے گئے) کامل اور مسنون طریقے کے مطابق ذبح ہوگیا۔ (شرح مختصر کرخی، کتاب الذبح، باب صفۃ الذکاۃ، جلد6، صفحہ 282، مطبوعہ، بیروت)

چار رگیں نہ کٹیں تو کم از کم تین کا کٹنا ضروری ہے۔ چنانچہ المبسوط، محیط برہانی اور بدائع الصنائع میں ہے:

واللفظ للاول:”فإن قطع الأكثر من ذلك فذلك كقطع الجميع في الحل، لحصول المقصود في الأكثر من ذلك، واختلفت الروايات في تفسير ذلك، فروى الحسن عن أبي حنيفة رحمهما الله أنه إذا قطع ثلاثا منها أي ثلاث كان فقد قطع الأكثر“

ترجمہ: اگر اکثر رگوں کو کاٹ دیا گیا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے جانور حلال ہونے میں تمام رگوں کو کاٹ دیا گیا، جانور کے حلال ہونے میں اکثر (رگوں کے کٹ جانے سے) مقصود حاصل ہونے کی وجہ سے اور اکثر کی تفسیر میں اختلاف کیا گیا ہے، امام حسن نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت فرمایا کہ جب (ذبح کرنے والے نے) چار رگوں میں سے کسی بھی تین کو کاٹ دیا تو اکثر رگیں کٹ گئیں۔ (المبسوط، کتاب الذبائح، جلد12، صفحہ 3، مطبوعہ، مصر)

فتاوی عالمگیری اور طوالع الانوار  میں ہے:

واللفظ للاول: ”والصحيح قول أبي حنيفة رحمه اللہ تعالى لما أن للأكثر حكم الكل“

ترجمہ: امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا قول صحیح ہے، کیونکہ اکثر کل کے حکم میں ہوتا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الذبائح، الباب الاول فی رکن الذبح۔۔، جلد5، صفحہ 287، مطبوعہ، بیروت)

ذبح میں کم از کم تین رگیں کٹنے کے متعلق امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”ذبح میں گھنڈی کا اعتبار نہیں، چاروں رگوں میں سے تین کٹ جانے پر مدارہے۔ اگر ایک یا دو رگ کٹی حلال نہ ہوگا اگرچہ گھنڈی سے نیچے ہو، اور اگر چاروں یا کوئی سی تین کٹ گئیں تو حلال ہے اگر چہ گھنڈی سے اوپر ہو۔“ (فتاو ی رضویہ، جلد20، صفحہ 219، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مزید ایک مقام پر فر ماتے ہیں: ”  کم از کم تین رگیں کٹنا لازم ہے، اگر عقدہ طرف را س رہا اور تین سے کم رگیں کٹیں مردار ہوگیا اور عقدہ طرف صدر رہا اور ذبح بین اللبہ واللحیین ہوا اور تین رگیں کٹ گئیں حلال ہوگیا، ھو التحقیق الذی لایحل العدول عنہ یعنی: یہی تحقیق ہے اس سے عدول نہ چاہئے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد20، صفحہ 223، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ  علیہ فرماتے ہیں: ”ذبح کی چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے، یعنی اس صورت میں بھی جانور حلال ہو جائے گا کہ اکثر کے لیے وہی حکم ہے جو کل کے لیے ہے۔“ (بہار شریعت، جلد3، صفحہ 313، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: GUJ-0083

تاریخ اجراء: 25جمادی الاخری 1447ھ/ 17دسمبر 2025ء