ذبح کے وقت سر جسم سے جدا ہو جائے تو جانور کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ذبح کے وقت جانور کا سر بالکل جدا ہو جائے تو ایسے ذبیحہ کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر بوقت ذبح، ذبیحہ کا سر جدا ہو جائے مثلا مرغی و کبوتر وغیرہ تو اس کا کھانا درست ہے یا نہیں؟
جواب
جان بوجھ کر جانور اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے، مکروہ و ممنوع ہے کہ یہ جانور کو ضرورت سے زائد ایذا (تکلیف) دینا ہے۔ جب کہ ہماری شریعت میں حکم ہے کہ جانور کو بلا ضرورت ایذا نہ دی جائے۔ لہذا جان بوجھ کر اس طرح جانور ذبح کرنا تو ممنوع ہے۔ البتہ وہ جانور جو اس طرح ذبح ہوا کہ اس کا سر جدا ہو گیا تو وہ جانور حلال ہی رہے گا، اسے کھا سکتے ہیں، حتی کہ وہ جدا ہونے والا سر بھی حلال ہی شمار ہوگا۔ کیونکہ یہاں کراہت کا حکم اس شخص کے فعلِ ذبح سے متعلق ہے۔ اس کی وجہ سے ذبح ہونے والے جانور میں کوئی نقص یا کراہت پیدا نہیں ہوتی۔
ذبیحہ کو آرام پہنچانے کے بارے میں نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، ولیحد أحدکم شفرتہ، فلیرح ذبیحتہ‘‘ جب تم ذبح کرو تو احسن طریقے سے ذبح کرو، جو ذبح کرے اسے چاہئے کہ اپنی چھری تیز کر لے، پس اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے۔ (الصحیح لمسلم، کتاب الصید والذبائح، باب الامر باحسان الذبح، جلد 2، صفحہ 152، کراچی)
شیخ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”قالوا: وكره النخع۔۔۔وهو أن يبلغ السكين النخاع وهو عرق أبيض في جوف عظم الرقبة، لما أخرج الطبراني عن ابن عباس رضي الله عنهما «أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الذبيحة أن تفرس». وفي غريب الحديث: الفرس أن تذبح الشاة فتنخع، وقيل معنى النخع أن يمد رأسه حتى يظهر مذبحه، وقيل أن يكسر عنقه قبل أن يسكن الاضطراب، وكل ذلك مكروه لما فيه من زيادة تعذيب الحيوان بلا فائدة‘‘
فقہا نے کہا ہے کہ ”نخع“ مکروہ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ذبح کے دوران چھری کو اتنی گہرائی تک لے جایا جائے کہ وہ نخاع (حرام مغز) تک پہنچ جائے، جو گردن کی ہڈی کے اندر سفید رگ ہوتی ہے۔ اس کی ممانعت کی دلیل یہ ہے کہ طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبیحہ کو "فرس" کرنے سے منع فرمایا۔ غریب الحدیث میں "فرس" کا مطلب یہ ہے کہ بکری کو ذبح کیا جائے اور چھری ، حرام مغز تک پہنچا دی جائے۔ نخع کی مختلف تشریحات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جانور کی گردن کو کھینچا جائے تاکہ اس کا مذبح واضح ہو جائے۔ یا یہ کہ گردن کو توڑ دیا جائے جبکہ جانور ابھی مکمل طور پر بے حرکت نہ ہوا ہو۔ ان سب صورتوں کو مکروہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں جانور کو بلا ضرورت زیادہ تکلیف دینا شامل ہے، جو کہ بلا فائدہ ہے۔ (مرقاة المفاتيح، جلد 6، صفحہ 2649، دار الفکر، بیروت)
عمدۃ القاری میں علامہ عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”{وقال ابن عمر وابن عباس وأنس: إذا قطع الرأس فلا بأس} أثر ابن عمر وصله أبو موسى الزمن من رواية أبي مجاز: سألت ابن عمر عن ذبيحة قطع رأسها؟ فأمر ابن عمر بأكلها وأثر ابن عباس وصله ابن أبي شيبة بسند صحيح عن ابن عباس سأل عن ذبح دجاجة طير رأسها. فقال: ذكاة وحية۔۔۔ أي: شريعة منسوبة إلى الوحاء وهو الإسراع والعجلة، وأثر أنس بن مالك وصله أبو بكر بن أبي شيبة من طريق عبيد الله بن أبي بكر بن أنس أن جزارا لأنس ذبح دجاجة فاضطربت فذبحها من قفاها فأطار رأسها فأرادوا طرحها فأمرهم أنس بأكلها‘‘ یعنی حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت انس رضی اللہ عنہم نے فرمایا: "اگر جانور کا سر کاٹ دیا جائے تو اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اثر ابو موسیٰ الزمن نے ابو مجاز کی روایت سے بیان کیا ہے: "میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسے ذبیحہ کے بارے میں سوال کیا جس کا سر کاٹ دیا گیا ہو، تو انہوں نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اثر ابن ابی شیبہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ان سے ایسی مرغی کے ذبیحہ کے بارے میں پوچھا گیا جس کا سر اڑایا گیا ہو، تو انہوں نے فرمایا: "یہ زکاۃ وحِیَۃ ہے۔" زکاۃ وحیۃ کا مطلب ہے کہ یہ ایسا طریقہ جو وحاح یعنی جلد ی اور عجلت کی طرف منسوب ہے۔ (یعنی یہ ہے ذبیحہ لیکن ایسا ہے کہ اس کے ذبح میں تیزی و عجلت کی گئی ہے۔)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا اثر ابو بکر بن ابی شیبہ نے عبید اللہ بن ابو بکر بن انس کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے قصاب نے مرغی ذبح کی، تو وہ تڑپنے لگی اور اس نے پیچھے سے اس کا سر الگ کر دیا۔ لوگوں نے اسے پھینکنا چاہا، لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔ (عمدة القاري، جلد 21، صفحہ 123، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
ہدایہ میں ہے: ’’من بلغ بالسکین النخاع، أو قطع الرأس، کرہ لہ ذٰلک، تؤکل ذبیحتہ۔۔۔ والنخاع عرق أبیض فی عظم الرقبۃ، أما الکراھۃ فلما روی عن النبی علیہ الصلاۃ والسلام: أنہ نھی أن تنخع الشاۃ إذا ذبحت، وتفسیرہ ما ذکرناہ، قیل معناہ: أن یمد رأسہ حتی یظھر مذبحہ، قیل إن یکسر عنقہ قبل أن یسکن من الإضطراب، وکل ذٰلک مکروہ، وھٰذا لأن فی جمیع ذٰلک، وفی قطع الرأس زیادۃ تعذیب الحیوان بلا فائدۃ، وھو منھی عنہ، والحاصل: أن ما فیہ زیادۃ إیلام لا یحتاج إلیہ فی الذکاۃ، مکروہ۔‘‘ یعنی جو چھری کو حرام مغز تک لے جائے یا سر ہی جدا کر دے، اس کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے، البتہ جانور کھایا جائے گا۔حرام مغز گردن کی ہڈی میں موجود سفید رگ کو کہتے ہیں۔ یہ کراہت اس لیے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کے وقت جانور کے حرام مغز تک پہنچنے سے منع فرمایا۔ اس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ذبیحہ کے سر کو ضرورت سے زیادہ کھینچنا ہے، تا کہ ذبح کی جگہ ظاہر ہو، ایک قول کے مطابق جانور ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی گردن توڑنا مراد ہے۔ بہر حال یہ تمام افعال مکروہ ہیں، کہ ان میں جانور کو بلا فائدہ زائد اذیت دینا ہے، جو ممنوع ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ ذبح میں ہر وہ کام جس سے جانور کو بلا فائدہ اذیت ہو مکروہ ہے۔ (ھدایہ، کتاب الذبائح، جلد 4، صفحہ 437، 438، لاہور )
بہارِ شریعت میں صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ”اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے، مکروہ ہے، مگر وہ ذبیحہ کھایا جائے گا، یعنی کراہت اس فعل میں ہے، نہ کہ ذبیحہ میں۔ عام لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ذبح کرنے میں اگر سر جدا ہو جائے، تو اس سر کا کھانا مکروہ ہے، یہ کتب فقہ میں نظر سے نہیں گزرا، بلکہ فقہاء کا یہ ارشاد کہ ذبیحہ کھایا جائے گا، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سر بھی کھایا جائے گا۔ ہر وہ فعل جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے، مکروہ ہے، مثلاً: جانور میں ابھی حیات باقی ہو، ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال اتارنا، اس کے اعضاء کاٹنا یا ذبح سے پہلے اس کے سر کو کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا، یوہیں جانور کو گردن کی طرف سے ذبح کرنا، مکروہ ہے، بلکہ اس کی بعض صورتوں میں جانور حرام ہو جائے گا۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 315، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ: ذبح کے وقت حرام مغز کو کاٹ دینا طبی اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے کہ حرام مغز کٹنے سے جانور جلد ی ٹھنڈا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے خون پوری طرح باہر نہیں نکلتا، ایسے گوشت کا استعمال طبی لحاظ سے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-2010
تاریخ اجراء: 01 جمادی الاولی 1446 ھ / 04 نومبر 2024 ء