
LAM ایپ کے ذریعے چینل سبسکرائب اور ویڈیو لائک کرنے کی اجرت لینا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ LAM نام کی ایک ایپلیکشن (Application)ہے، جو انٹرنیٹ پر یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ سوشل میڈیا چینلز اور پیجزکی پروموشن کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جس کا طریقہ کار یہ ہے: (1) سب سے پہلے LAM نامی ایپلیکشن (Application) کو ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے،پھر اس میں اپنا ایک اکاؤنٹ بنایا جاتا ہےاور یہ اکاؤنٹ مفت (Free)بنتا ہے۔ (2) اس کے مختلف پیکجز (Packages) ہوتے ہیں جو چار ہزار سے لے کر آٹھ لاکھ روپے تک ہوتے ہیں،نفع پیکج(package) کی مالیت کے اعتبار سے ہوتا ہے،جتنا مہنگا پیکج ہو گا، اتنا زیادہ نفع ہوگا، ان پیکجز میں سے کسی ایک پیکج کا خریدنا لازم ہے، وگرنہ آپ اس کےاجیر (employee)نہیں بن سکتے۔ LAM Application (3) کی طرف سے پیکج کی مالیت کے مطابق اجیر employee کو روزانہ چینلز اور ویڈیوز کے لنک دیےجاتے ہیں،اجیر نے اس چینل کو سبسکرائب (Subscribe)کرنا اور اس کی ویڈیو کو دیکھ کر لائک کر کے اس کا سکرین شارٹ ایپ میں شوکر دینا ہے،پھر اس کے پیکج کے مطابق اسکی انکم جنریٹ (Generate) ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ (4) LAM Application کو لوگوں میں عام کرنے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو منسلک کرنے کے لئے نیٹ ورک مارکیٹنگ کا بھی آپشن موجود ہے، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ اجیر(employee)لنک کے ذریعہ نیا شخص اس ایپ میں ایڈ کرتا ہے،اس کا کمیشن اجیر کو ملتا ہے، پھر یہ نیا شخص آگے کسی دوسرے شخص کو لنک کے ذریعہ اس ایپ میں ایڈ کرتا ہے، تو اس کا کمیشن پھر پہلے اجیر کو ملتا ہے،یونہی یہ سلسلہ آگے کئی افراد تک بڑھتا جاتا ہے،ہر شخص کو اس کی اجرت مکمل ملتی ہے اور اجیر کو کمیشن ملتا ہے۔
صاحبِ نصاب امام مسجد سے تنخواہ بھی لیتا ہو، تو اسے قربانی کی کھال دینا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کے امام صاحب تنخواہ لیتے ہیں اور صاحب نصاب بھی ہیں، اس حالت میں ان کو قربانی کی کھال دے سکتے ہیں یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔
شادی شدہ بیٹے یا بیٹی کو وراثت سے حصہ کم ملے گا؟
جواب: طریقہ ہے اور نہ ہی اسلام کی تعلیمات، بلکہ اسلام نے جن لوگوں کو وراثت سے جتنا جتنا حصہ دیا ہے، ان کو ان کا پورا حصہ دینا لازم ہے، ورنہ یہ ناحق کھانے وا...
لقمہ دینے کے لیے نابالغ حافظ پہلی صف میں کھڑا ہوسکتا ہے؟
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا تراویح میں لقمہ دینے کے لیے ایسے نابالغ حافظ کو پہلی صف میں کھڑا کر سکتے ہیں؟ جو سمجھدار ہو، نماز کی ادائیگی کا طریقہ جانتا ہو۔
میت کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اپنی قربانی کے علاوہ جو قربانی کسی میت مثلا والدین وغیرھما کی طرف سے کی جاتی ہے، تو کیا اس کا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں یا سب صدقہ کرنا واجب ہے؟
قربانی کے جانور کا سینگ ٹوٹنا کب عیب شمار ہوتا ہے؟
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ ایک جانور خریدنے کا ارادہ ہے ، مگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔ اس کے مالک سے پوچھا ، تو اس نے بتایا کہ ایک سینگ ٹوٹ گیا تھا ، دوسرے کو بھی ہم نے شروع سے ہی نکال دیا تھا ، تو کیا ایسے جانور کی قربانی ہوسکتی ہے ، جبکہ جانور کے سر پر کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی سر پر اب کسی طرح کا کوئی زخم ہے ۔ راہنمائی فرمائیں؟
قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ کا حکم اور مالِ تجارت کے بدلے خریدے گئے برتنوں پر زکوٰۃ کا حکم؟
جواب: طریقہ بیان کرتے ہوئے ملک العلماء امام کاسانی علیہ الرحمۃ بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں: ”و الحيلة في الجواز أن يتصدق عليه بخمسة دراهم عين ينوي عن زكاة ا...
بیوہ عورت کے لئے سونا پہننے کا حکم
جواب: طریقہ جو شرعاً ناجائز ہو وہ ناجائز ہی رہے گا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں بیوہ عورت عدت وفات مکمل کرنے کے بعد سونا پہن سکتی ہے اور اسے پہن کر نما زپڑ...
بیل دوڑ کے مقابلے کروانا، اس میں شریک ہونا اور دیکھنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں’’بیل دوڑ‘‘ کے مقابلے بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس کا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ اولاً مخصوص افراد یا پارٹیاں اس مقابلے کا اہتمام کرتی ہیں اور بیل رکھنے والے کئی افراد اس میں حصہ لیتے ہیں،جس کے بیل جیت جائیں، انہی پارٹیوں کی جانب سے اسے بھاری رقم اور مختلف انعامات دئیے جاتے ہیں۔ پھر جب بیل دوڑانے کی باری آتی ہے،تو عموماً اکٹھے دو بیلوں کے پیچھے مخصوص انداز میں ایک نشست باندھی جاتی ہے، اس پر ایک شخص کیل لگی چھڑی ہاتھ میں لئے بیٹھ جاتا ہےاور دوڑ کے دوران جو بیل تیز نہ دوڑے، اسے کیل چبھوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے بیل زخمی ہوجاتا اور بسا اوقات اس کا خون بھی نکل آتا ہے۔ ان بیلوں نے ایک مخصوص جگہ تک دوڑنا ہوتا ہے، کئی مرتبہ یہ بیل بے قابو ہوکر اس جگہ سے ہٹ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کافی نقصان ہوتا ہے، مثلاً بیلوں کا کسی اونچی جگہ سے گِر جانا،مجمع میں آکر لوگوں کو زخمی کرنا اور ان کا مالی نقصان کر دینا وغیرہ، پھر بیل جیتنے پر خوشی میں خوب ڈھول، گانے باجے اور ڈانس/ ناچنا بھی ہوتا ہے، نیز اس میں نمازوں کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ طریقہ کار کے مطابق بیلوں کی دوڑ کے مقابلے کروانا اور اس میں شریک ہونا شرعاً کیسا؟