
وقت کی کمی کی وجہ سے نماز میں تشہد کے بعد درود پاک پڑھے بغیر سلام پھیرنا
جواب: ادائیگی میں بلا اجازت شرعی اتنی تاخیر کرنا منع ہے کہ نماز خطرے میں پڑ جائے یا سنتیں چھوٹ جائیں بلکہ بعض صورتوں میں اتنی تاخیر کی عادت بنانے والا گنہگا...
زکوۃ کی رقم سے مدرسہ کی زمین خریدنا
جواب: ادائیگی میں تملیک (مالک بنانا) شرط ہےجبکہ مدرسے میں تملیک نہیں پائی جاتی، لہذا مدرسے کی زمین خرید نے میں یہ رقم براہِ راست استعمال نہیں کی جا سکتی،...
ہر فرض نماز کے ساتھ قضا نماز پڑھنے کا حکم
جواب: ادائیگی مکروہ ہے، یہاں فرض سے مراد وقتی فرض نماز ہے، اور یہ کراہت نفل، واجب، قضاء کو بھی شامل ہے، اگرچہ قضاء اور وقتی فرض کے درمیان ترتیب والا معاملہ ...
قرض واپس نہ ملنے پر کسی سے سفارش کروانا کیسا؟
جواب: ادائیگی میں بلا وجہ ٹال مٹول اور دیر کرنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے اور اسے حدیثِ پاک میں ظلم قرار دیا گیا ہے اور اپنے اوپر ہوئے ظلم کی فریاد کسی ایسے ب...
عمل کرنے کے لئے علم کا سیکھنا فرض ہے یا بالذات ایک الگ فرض ہے؟
جواب: ادائیگی کا علم حاصل نہ کرے اور اسی پر اکتفاء کرے کہ میری نماز لوگوں کےمطابق ہے، اور اس میں کوئی خرابی نہیں ہے، اس شخص کے لئے جو صحیح نماز تو پڑھتا ہو ...
زکوٰۃ کی رقم علیحدہ کردینے سے زکوۃ اداہوجائے گی یا نہیں؟
سوال: زکوة کے فرض ہونے کے بعد اگر کوئی شخص زکوة کی رقم الگ کر دے، لیکن ابھی تک مستحق کو نہ دے، تو صرف رقم الگ کرنے سے زکاة ادا ہوجائے گی، یا پھر زکاة کی ادائیگی اُس وقت مکمل سمجھی جائے گی جب وہ رقم کسی مستحق کو واقعی دے دی جائے؟
عصر کی نماز کے دوران وقت ختم ہوگیا، تو کیا حکم ہے؟
جواب: ادائیگی میں اتنی تاخیر کرنا ہرگز جائز نہیں کہ مکروہ وقت داخل ہوجائے یعنی غروبِ آفتاب میں صرف بیس منٹ رہ جائیں، اگرچہ ایسی صورت میں وقتی نماز قضا کرنے ...
مخصوص دعا پڑھنے سے قضائے عمری معاف ہونا
جواب: ادائیگی کے کچھ نہیں، اسے امام احمد، بخاری، مسلم (مذکورہ الفاظ بھی اسی کے ہیں)، ترمذی، نسائی اور دیگر محدثین نے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا...
اللہ اکبر میں لفظ اللہ کی ھا کو کھینچ کر پڑھنے سے نماز کا حکم
جواب: ادائیگی کا درست طریقہ نہیں ہے لہذا جو اس کا درست طریقہ ہے اسی کے مطابق اسے ادا کیا جائے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ: لفظ "اللہ" کے "ھا" کو کھینچنا، یہ اش...
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمیں اپنی مسجد پر سیکنڈ فلور بنانے کی حاجت تھی اس لئے اس کی تعمیر شروع کروادی مگر ابھی دیواریں بھی پوری نہیں ہوئی اورمسجد کا فنڈ ختم ہو گیا ہے اوروقف کی کوئی ایسی شی بھی نہیں جسے کرایہ پر دے کر ضرورت پوری کی جا سکے کیا ایسی صورت میں ہم کسی شخص سے مسجد کے لیے قرض لے سکتے ہیں پھر جیسے جیسے چندہ آتا جائے گا قسط وار قرض کی ادائیگی کر دی جائے گی۔ سائل:سید احسان(لاہور)