logo logo
AI Search

عورت کا بغیر محرم کے حج و عمرہ کا حکم

عورت کا بغیر مَحْرَم کے حج وعمرہ پر جانا کیسا؟

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مُفتیانِ شرعِ مَتین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کوئی عورت بغیر مَحْرَم حج و عمرے کیلئے جاسکتی ہے؟ جبکہ عورت بغیر محرم دیگر ممالک اور اپنے ملک میں دیگر شہروں کا سفر کرتی ہے تو حج یا عمرے کے لئے کیوں نہیں جاسکتی؟ کسی عورت کے پاس محدود رَقْم ہو جس سے وہ خود حج یا عمرہ کرسکتی ہے تو کیا کسی گروپ یا فیملی کے ساتھ جاسکتی ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

جس عورت کو حج وعمرہ یا کسی اور کام کے لئے شَرْعی سفر کرنا پڑے (شرعی سفر سے مراد تین دن کی راہ یعنی تقریباً 92 کلو میٹر یا اس سے زائد سفر کرنا پڑے بلکہ خوفِ فتنہ کی وجہ سے تو عُلَما ایک دن کی راہ جانے سے بھی مَنْع کرتے ہیں) تو اس کے ہمراہ شوہر یا مَحْرم ہونا شرط ہے، اس کے بغیر سفر کرنا ناجائز وحرام ہے۔ لہٰذا یہ حکم صرف حج وعمرے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کسی بھی جگہ شرعی سفر کرنا پڑے تو یہی حکم ہوگا خواہ عورت کتنی ہی بوڑھی ہو، بغیر مَحْرم سفر نہیں کرسکتی، کسی گُروپ وفیملی کے ساتھ بھی نہیں جاسکتی اگر جائے گی تو گنہگار ہوگی اور اس کے ہر قدم پر گُناہ لکھا جائے گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی

مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری

تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2017ء