نماز میں عورت کی کلائی کا کچھ حصہ کھلا ہو تو نماز کا حکم

عورت کی کلائی کا کچھ حصہ کھلا ہو، تو  نماز ہوجائے گی؟

دارالافتاء اھلسنت)دعوت اسلامی)

سوال

  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر عورت نے ایسی قمیص پہنی ہو کہ جس کی آستین آدھی کلائی سے بھی کچھ اوپر تک ہو،  جس کی وجہ سے اُس کی کلائی ظاہر ہورہی ہو۔ اِسی حالت میں وہ عورت نماز ادا کرے، تو کیا اُس کی نماز ادا ہوجائے گی ؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

شرعی مسئلہ ذہن نشین رہے کہ نمازی اس حالت میں تکبیرِ تحریمہ کہے کہ اُس کے  اعضائے ستر میں سے کوئی عضو چوتھائی حصے یا اُس سے زیادہ کھلا ہوا ہو، تو اس صورت میں بالاتفاق اُس کی نماز شروع ہی نہیں ہوگی، کیونکہ سترِ کا چھپا ہونا نماز کی بنیادی شرط ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گئی۔ نماز میں سترِ عورت کے اعتبار سےعورت کے حق میں دونوں کلائیاں (یعنی کہنی سے لے کر گٹے کے نیچے تک کا حصہ) دو عضو ہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں دونوں کلائیاں آدھی سے اوپر تک کھلی ہونے کی صورت میں بلاشبہ  اُس عورت کی  نماز ادا نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ عورت گھر میں نماز پڑھے یا باہر، بلکہ کسی اندھیری کوٹھڑی میں چھپ کر نماز ادا کرے ، تب بھی نماز کی درست ادائیگی کے لیے سترِ عورت کا لحاظ رکھنا بہر صورت لازم و ضروری ہے۔

عورت کے حق میں  دونوں کلائیاں سترِ عورت ہیں جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے:”زنِ آزاد کا سارا بدن سر سے پاؤں تک سب عورت ہے مگر منہ کی ٹکلی اور دونوں ہتھیلیاں۔۔۔دونوں پشتِ پا۔ ۔۔۔اور وہ تیس عضووں پر مشتمل ہے ۔۔۔۔(08۔09)دونوں بازو یعنی اُس جوڑ سے کہنیوں سمیت شروع کلائی کے جوڑ تک۔  (10۔11)دونوں کلائیاں یعنی کہنی کے اس جوڑ سے گٹوں کے نیچے تک۔“ (فتاوی رضویہ، ج06،ص 40-39،رضا فاؤنڈیشن، لاھور، ملتقطاً)

بہار شریعت میں ہے:”آزاد عورتوں اورخنثیٰ مشکل  کے ليے سارا بدن عورت ہے، سوا مونھ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کے، سر کے لٹکتے ہوئے بال اور گردن اور کلائیاں بھی عورت ہیں، ان کا چھپانا بھی فرض ہے۔ “ (بھار شریعت، ج01، ص481، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ عورت کے اعضائے ستر بیان کرتے ہوئے نقل فرماتے ہیں:” (08۔09) دونوں بازو،  ان میں کہنياں بھی داخل ہیں۔   (10۔11) دونوں کلائیاں یعنی کہنی کے بعد سے گٹوں کے نیچے تک۔(بھار شریعت، ج01، ص483، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

تکبیرِ تحریمہ کے وقت اعضائے ستر میں سے کوئی عضو  چوتھائی سے زائد کھلا ہوا ہو، تو اس صورت میں بالاتفاق وہ نماز منعقد ہی نہیں ہوگی۔ جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ہے:

”اما المقارن لابتدائھا فانہ یمنع انعقادھا مطلقاً اتفاقاً بعد ان یکون المکشوف ربع العضو“

یعنی  نماز کی ابتدا میں ہی ستر کھلا ہو تو  بالا تفاق یہ حکم ہے کہ یہ نماز شروع ہونے سے مطلقا مانع ہے  جبکہ کھلا ہوا حصہ چوتھائی کے برابر ہو ۔(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج 02، ص 100، مطبوعہ پشاور)

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فتاوٰی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:” اگر تکبیرِ تحریمہ اسی حالت میں کہی کہ ایک عضو کی چہارم کھلی ہے ،تو نماز سرے سے منعقد ہی نہ ہوگی۔ “ (فتاوٰی رضویہ ،ج06، ص 30،رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

بہارِ شریعت میں ہے:”اگر نماز شروع کرتے وقت عضو کی چوتھائی کھلی ہے، یعنی اسی حالت پر ا اکبر کہہ لیا، تو نماز منعقد ہی نہ ہوئی۔ “    (بھارِ شریعت،ج01، ص482، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اندھیری کوٹھڑی میں تنہا نماز ادا کرتے ہوئے بھی سترِ عورت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے : ” نماز کے ليے (عورت) اگرچہ تنہا اندھیری کوٹھڑی میں ہو، تمام بدن سوا پانچ عضو کے جن کا بیان آئے گا ، چھپانا فرض ہے۔“ (بھارِ شریعت،ج01، ص480، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:  Nor-13730

تاریخ اجراء29شعبان المعظم1446 ھ/28فروری 2025   ء