عورت کا پردے کی جگہ کا علاج مرد ڈاکٹر سے کروانا کیسا ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عورت کے لیے ستر کی جگہ کا علاج مرد ڈاکٹر سے کروانا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی عورت کی چیسٹ میں الٹی سائیڈ پر اکثر درد رہتا ہے اور اوپر کی جگہ پر نشانات بھی پڑ چکے ہیں۔ اب اس صورت میں چیک اپ کروانے کیلئے کیا وہ مرد ڈاکٹر کو وہ جگہ دکھا سکتی ہے۔ اور اسے یہ بھی یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ اس کا ٹیسٹ ہاتھ لگا کر ہی لیا جاتا ہے اور پھر باقی پراسس ہوتا ہے۔اس بارے میں رہنمائی فرما دیجئے۔
جواب
ایسا مرض جس میں عورت کے اعضائے ستر کو دیکھنے اور چھونے کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے مرض کے علاج کیلئے اگر کوئی ماہر لیڈی ڈاکٹر دستیاب ہو، تو پھر عورت کیلئے لیڈی ڈاکٹر سے ہی چیک اپ کروانا لازم ہوگا۔ البتہ اگر لیڈی ڈاکٹر دستیاب نہ ہو، یا ہو مگر اس مرض کے علاج میں ماہر نہ ہو، تو پھر ضرورتاً عورت اس مرض کے علاج کیلئے کسی مرد ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کرواسکتی ہے، شرعاً اس کی گنجائش موجود ہے، لہٰذا مرد ڈاکٹر علاج کی غرض سے اس کے ستر والے عضو کو دیکھ سکتا ہے اور ضرورتاً ہاتھ بھی لگاسکتا ہے۔ ایسی مجبوری کی صورت میں مرد ڈاکٹر کو چیک اپ کرواتے ہوئے عورت کیلئے چند باتوں کا اہتمام ضروری ہے:
(1)عورت صرف مرض والی جگہ ہی کھولے اور باقی حصوں کو اچھی طرح ڈھانپے رکھے۔ عورت کے اعضائے مستورہ جیسے کلائیاں، گلا، بال وغیرہ بھی کھلے ہوئے نہ ہوں۔ لباس بھی چست و باریک نہ ہو، بلکہ چہرے اور بدن کے مکمل پردے کا لحاظ رکھ کر مرد ڈاکٹر سے چیک اَپ کروائے۔ نیز مرد ڈاکٹر بھی صرف ضرورت کے مطابق ہی جسم کو دیکھے اور چھوئے۔
(2) مرد ڈاکٹر کے ساتھ کچھ دیر کیلئے بھی خلوت و تنہائی نہ ہو، بلکہ کسی محرم مرد، شوہر یا دوسری عورت کی موجودگی میں چیک اپ کروائے۔
(3)دورانِ گفتگو بے تکلفی اور نرم و نزاکت والا لہجہ اختیار نہ کرے، بلکہ سنجیدہ اور عام سادہ انداز میں ضرورت کی حد تک بات چیت کرے۔
بوقت ضرروت مرد ڈاکٹر، عورت کا علاج کرسکتا ہے اور اس کے مرض والی جگہ کو دیکھ سکتا ہے، چنانچہ ہدایہ، بحر الرائق، مجمع الانہر، تبیین الحقائق، در مختار میں ہے:
واللفظ للبحر: والطبيب إنما يجوز له ذلك إذا لم يوجد امرأة طبيبة فلو وجدت فلا يجوز له أن ينظر لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف وينبغي للطبيب أن يعلم امرأة إن أمكن وإن لم يمكن ستر كل عضو منها سوى موضع الوجع ثم ينظر ويغض ببصره عن غير ذلك الموضع إن استطاع لأن ما ثبت للضرورة يتقدر بقدرها‘‘
ترجمہ: اور طبیب کو علاج کیلئے عورت کے مرض کی جگہ کو دیکھنا جائز ہے ، جبکہ کوئی عورت طبیب موجود نہ ہو، پس اگر کوئی عورت طبیب مل جائے تو پھر اس کے لیے دیکھنا جائز نہیں، کیونکہ عورت کا عورت کی طرف دیکھنا مرد کے عورت کی طرف دیکھنے سے ہلکا ہے۔ اور مرد طبیب کو چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو کسی عورت کو علاج سکھا دے۔ اور اگر ممکن نہ ہو تو سوائے درد کی جگہ کے عورت کے بدن کے ہر حصے کو ڈھانپ دیا جائے، پھر وہ (طبیب) اس حصے کو دیکھے اور باقی جگہ سے حتی الامکان اپنی نظر جھکا کر رکھے، کیونکہ ضرورت کی وجہ سے جو حکم ثابت ہوتا ہے ، وہ صرف ضرورت کی حدتک محدود ہوتا ہے۔ (بحر الرائق، جلد8، صفحہ218، دارالکتاب الاسلامی، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’امرأة أصابتها قرحة في موضع لايحل للرجل أن ينظر إليه لايحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع‘‘
ترجمہ: عورت جس کو ایسی جگہ پھوڑا ہو جائے جس جگہ کو مرد کیلئے دیکھنا جائز نہیں، تو مرد کیلئے اس کا دیکھنا جائز نہیں ہوگا، لیکن وہ کسی عورت کو سکھائے گاکہ وہ اس کا علاج کرے۔ اگر ایسی کوئی عورت نہ ملے جو اس کا علاج کر سکے اور نہ کوئی ایسی عورت ہو جس کو وہ سکھائے تو وہ سیکھ جائے اور مریضہ کے لیے تکلیف، بیماری بڑھنے یا ہلاکت کا خطرہ ہو، تو پھر اس کے بدن کا ہر حصہ ڈھانپ دیا جائے گا، سوائے اس جگہ کے جہاں پھوڑا ہے۔ پھر مرد اس کا علاج کرے گا اور حتی الامکان اپنی نظر جھکائے رکھے گا، سوائے اسی جگہ کے جس کا علاج کرنا ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد5، صفحہ330، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”اجنبیہ عورت کی طرف نظر کرنے میں ضرورت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عورت بیمار ہے اس کے علاج میں بعض اعضا کی طرف نظر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے بلکہ اس کے جسم کو چھونا پڑتا ہے۔ مثلاً نبض دیکھنے میں ہاتھ چھونا ہوتا ہے یا پیٹ میں ورم کا خیال ہو تو ٹٹول کر دیکھنا ہوتا ہے یا کسی جگہ پھوڑا ہو تو اُسے دیکھنا ہوتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ٹٹولنا بھی پڑتا ہے اس صورت میں موضعِ مرض کی طرف نظر کرنا یا اس ضرورت سے بقدرِ ضرورت اس جگہ کو چھونا، جائز ہے۔۔۔ علاج کی ضرورت سے نظر کرنے میں بھی یہ احتیاط ضروری ہے کہ صرف اتنا ہی حصۂ بدن کھولا جائے جس کے دیکھنے کی ضرورت ہے باقی حصۂ بدن کو اچھی طرح چھپا دیا جائے کہ اس پر نظر نہ پڑے۔“ (بہارِ شریعت، جلد3، حصہ 16، صفحہ 447، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
عورت کو اعضاء مستورہ کھلے ہونے کی حالت میں غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے، ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے خواہ وہ پیر ہو یا عالم، یا عامی جوان ہو، یا بوڑھا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد22، صفحہ 240، رضافاؤنڈیشن، لاھور)
عورت کا اجنبی مرد وں سے بے تکلفی کے ساتھ بات چیت کرنا جائز نہیں، چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں:
”نجيز الكلام مع النّساء للأجانب ومحاورتهنّ عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ ولا تمطيطها ولا تليینها و تقطيعها لما في ذلك من استمالةالرّجال إليهنّ وَتحريك الشَهوَات منهم ومن ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ“
ترجمہ: ہم وقتِ ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام اور بات چیت کو جائز قرار دیتے ہیں اور ہم عورتوں کیلئے اپنی آوازیں بلند کرنے، اسے مخصوص میلان والے لہجے میں لمبا کرنے، اس میں نرم لہجہ اختیار کرنے اور اس میں طرز بنانے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ ان سب باتوں میں مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کی شہوات کو ابھارنا ہے، اسی وجہ سے یہ جائز نہیں کہ عورت اذان دے۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار، جلد2، مطلب فی ستر العورۃ، صفحہ97، دارالمعرفۃ، بیروت )
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے فتاوی رضویہ میں سوال ہو ا کہ کتنے شخص ایسے ہیں جن سے عورتوں کو گفتگو کرنا اور ان کو اپنی آواز سنانا جائز ہے؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: ’’تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہو، نہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد22، صفحہ243، رضافاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1011
تاریخ اجراء: 19 جمادی الاخری1447ھ/11 دسمبر 2025ء