logo logo
AI Search

طواف میں خواتین کا رمل کرنا واجب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا عورتوں کو بھی طواف میں رمل کرنے کا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا طواف میں مردوں کی طرح خواتین بھی رمل کریں گی؟

جواب

جس طواف کے بعد سعی ہو (جیسے عمرے کا طواف وغیرہ) تو اس کے پہلے تین چکروں میں رمل کرنا سنت ہے۔ رمل سے مراد یہ ہے کہ جلدی جلدی چھوٹے قدم رکھتے اور کندھوں کو ہلاتے ہوئے چلا جائے، جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ رمل فقط مردوں کے ساتھ خاص ہے، خواتین رمل نہیں کریں گی، بلکہ درمیانی چال ہی چلیں گی، کہ اس میں ان کے لئے پردے کا اہتمام زیادہ ہے۔ یہی حکم سعی کرتے ہوئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑنے کا ہے، کہ وہاں بھی خواتین دوڑے بغیر درمیانی چال ہی چلیں گی۔

رمل سنت ہے۔ چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:

ان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم لما قدم مكة اتى الحجر فاستلمه، ثم مشى على يمينه، فرمل ثلاثا ومشى اربعا

ترجمہ: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مکہ تشریف لائے، تو حجرِ اسود کے پاس آئے، اسے چوما، پھر اس کی داہنی جانب چلے اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار میں بغیر رمل کے چلے۔ (صحیح مسلم، ج 2، ص 893، مطبوعہ، دار احیاء التراث، العربی، بیروت)

جس طواف کے بعد سعی ہو، اس میں رمل سنت ہے۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:

و الاصل فيه ان الرمل سنة طواف عقيبه سعي و كل طواف يكون بعده سعي يكون فيه رمل و الا فلا

ترجمہ: قاعدہ یہ ہے کہ رمل اس طواف کی سنت ہے، جس کے بعد سعی ہو اور ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہوگی، اس میں رمل سنت ہوگا،ورنہ نہیں۔ (بدائع الصنائع، ج 2، ص 131، مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

رمل کرنے اور میلین اخضرین کے درمیان دوڑنے کا حکم مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ چنانچہ مناسکِ ملا علی قاری میں ہے:

ھی فیہ ای المراۃ فی حق الاحرام کالرجل الا فی اثنی عشر شیئاً۔۔ و لا ترمل ای فی الطواف۔۔ و لا تسعی بین المیلین ای بالاسراع و الھرولۃ

ترجمہ: عورت احرام کے معاملہ میں مرد ہی کی طرح ہے،مگر بارہ چیزوں میں فرق ہے۔ عورت طواف میں رمل نہیں کرے گی اور نہ ہی میلین کے درمیان تیز چال اور تیز رفتار کے ساتھ چلے گی۔ (مناسکِ ملا علی قاری، ص 115، مطبوعہ، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ، کراچی)

اسی بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: اضطباع یہ کہ چادر دہنے بغل کے نیچے سے نکال کر یہ آنچل بائیں شانے پر ڈالے، جس میں دہنا کندھا کھلا رہے اور رمل یہ کہ طواف میں جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا، شانوں کو جنبش دیتا چلے۔ یہ دونوں سنتیں خاص مردوں کے لیے ہیں،وہ بھی صرف اس طواف میں جس کے بعد صفا مروہ میں سعی ہوتی ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 792، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید فرماتے ہیں: میلین اخضرین۔۔ مرد پہلے میل سے دوڑنا شروع کریں، مگر نہ حد سے زائد کسی کو ایذا دیتے، یہاں تک کہ دوسرے میل سے نکل جائیں۔ اتنے راستے کو مسعیٰ کہتے ہیں، عورتیں نہ دوڑیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 816، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد فرحان افضل عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: PIN-7533
تاریخ اجراء: 26جمادی الاولی1446ھ / 29 نومبر2024ء