بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا خواتین کے لیے ماہواری کے دوران مدرسہ میں تشہد (التحیات)، رکوع اور سجدہ کی تسبیحات اور ثنا (جو تکبیر کے بعد نماز کے آغاز میں پڑھی جاتی ہے) پڑھنا یا سیکھنا جائز ہے؟
سائل: (محمد رضوان، فیصل آباد)
خواتین کا مخصوص ایام میں تشہد (التحیات)، رکوع و سجود کی تسبیحات اورثنا وغیرہا پڑھنا، پڑھانا، سیکھنا اور سکھانا سب جائز ہے، کیونکہ خواتین کو مخصوص ایام میں تلاوت کی نیت سے قرآن مجید پڑھنا، جائز نہیں، اس کے علاوہ دیگر اذکار، تسبیحات، درود شریف وغیرہا پڑھنا بالکل جائز بلکہ مستحب ہے، اسی طرح قرآن مجید کی وہ آیات کہ جو ذکر و ثنا، دعا و مناجات پر مشتمل ہوں، انہیں بھی تلاوت کی نیت کیے بغیر ذکر و دعا کی نیت سے پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور چونکہ سوال میں ذکر کردہ کلمات (تشہد، تسبیحات اور ثنا وغیرہا) بھی اذکار و تسبیحات ہیں، لہٰذا انہیں پڑھنے میں بھی حرج نہیں، البتہ ان چیزوں کووضو یا کلی کرکے پڑھنا بہتر ہے، اگرچہ وضو یا کلی کیے بغیر پڑھ لینے میں بھی حرج نہیں۔
مخصوص ایام میں قرآن مجید پڑھنے کی ممانعت کے متعلق جامع ترمذی میں ہے:
عن ابن عمر، عن النبي صلی اللہ علیہ و الہ و سلم، قال: لا تقرأ الحائض و لا الجنب شيئا من القرآن۔۔۔ و هو قول أكثر أهل العلم من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ و الہ و سلم و التابعين و من بعدهم۔۔۔ و رخصوا للجنب و الحائض في التسبيح و التهليل
ترجمہ:حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ نبی مکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے فرمایا کہ حائضہ اور جنبی شخص قرآن مجید میں سے کچھ نہ پڑھے۔ یہی صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد والوں میں سے اکثر اہلِ علم کا قول ہے اور انہوں نے جنبی اور حائضہ کے لیے تسبیح و تہلیل کی رخصت دی ہے۔ (جامع الترمذی، جلد 1، صفحہ 174، مطبوعہ دارالغرب الاسلامی، بیروت)
وہ آیاتِ قرآنیہ جو ذکر و ثنا، مناجات و دعا پر مشتمل ہوں، انہیں مخصوص ایام میں پڑھنے کے متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر و ثنا و مناجات و دُعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ، جیسے سورۂ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں
ھو اللّٰہ الذی لاالٰہ الا ھو عالم الغیب و الشھادۃ سے آخرِ سورہ تک، بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر و دعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب و حائض و نُفسا سب کو جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ 1078، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
حائضہ کے لیے تسبیح و تہلیل کے جواز کے متعلق مسند دارمی میں روایت ہے:
عن أبي هريرة رضي اللہ عنه، قال: أربع لا يحرمن على جنب و لا حائض: سبحان اللہ، و الحمد لله، و لا إله إلا اللہ، و اللہ أكبر
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: چار چیزیں جُنبی اور حائضہ پر حرام نہیں ہیں:سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر۔ (مسند دارمی، جلد 1، باب الحائض تذکر اللہ عز وجل و لا تقرأ القرآن، صفحہ 681، مطبوعہ دار المغني)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
(و لا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية و مسها و حملها و ذكر اللہ تعالى و تسبيح)
ترجمہ: حائضہ اور جنبی کے لیے دعائیں پڑھنے، اُنہیں چھونے اور اٹھانے، اسی طرح اللہ کا ذکر اور تسبیح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 1، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، صفحہ 536، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: قرآنِ مجید کے علاوہ اَور تمام اذکار کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وُضو یا کُلّی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حَرَج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حَرَج نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 379، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9685
تاریخ اجراء: 25 جمادی الثانی 1447ھ / 17 نومبر 2025ء