logo logo
AI Search

استحاضہ میں کھڑے ہوکر خون آتا ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے خون آتا ہو تو کیا بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ استحاضہ والی عورت کو اگر غالب گمان ہو کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے سے خون نہیں آئے گا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھے، تو خون آ جائے گا، ایسی صورت میں کیا وہ بیٹھ کرنماز پڑھ سکتی ہے؟

جواب

دریافت کی گئی صورت میں ایسی عورت کے لیے حکم یہ ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھے۔

تفصیل یہ ہے کہ ہر وہ طریقہ کار جس سے معذورِ شرعی کا عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے اس کا اختیار کرنا معذور پر واجب ہے اور مسئولہ صورت میں چونکہ بیٹھ کر نماز پڑھنے میں مستحاضہ عورت کا عذر چلے جانے کا غالب گمان ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، نیز فقہِ اسلامی کا اصول ہے کہ جب کوئی شخص دو آزمائشوں میں مبتلا ہوجائے، تو اس کو حکم ہے کہ ان میں سے کمتر کو اختیار کرے اور مسئولہ صورت کے مطابق عورت کے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں حدث لاحق ہوتا ہے، جبکہ بیٹھ کر نماز پڑھنے میں قیام کا ترک لازم آتا ہے اور یہ بھی  عیاں (واضح) ہے کہ جس طرح بلاعذرِ شرعی بغیر قیام اور رکوع و سجود کے نماز جائز نہیں ہوتی، اسی طرح بلاعذر شرعی بغیر وضو کے نماز پڑھنا بھی جائز نہیں، مگر شریعت اسلامیہ نے بحالت ِاختیار بعض صورتوں میں قیام ترک کرنے کی رخصت عطا فرمائی ہے، جیسا کہ نفل نماز پڑھنے والے کو بیٹھ کر یا سواری پر اشارے سے نماز پڑھنے کی رخصت دی گئی، جبکہ بحالتِ اختیار بے وضو نماز پڑھنے کی کسی صورت میں بھی رخصت عطا نہیں فرمائی، تو اس سے معلوم ہوا کہ قیام کا ترک کرنا، بے وضو نماز پڑھنے سے خفیف اور کمتر حکم رکھتا ہے، لہذا ان دونوں میں سے خفیف چیز کا اعتبار کرتے ہوئے قیام کو ترک کیا جائے گا اور حدث سے بچنے کے لیےبیٹھ کر نماز ادا کی جائے گی۔

کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں اگر خون آتا ہو، تو بیٹھ کر نماز پڑھنا لازم ہے۔ جیسا کہ علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں:

وقد يتحتم القعود كمن يسيل جرحه إذا قام أو يسلس بوله

ترجمہ: بعض اوقات بیٹھ کر نماز پڑھنا لازم ہوجاتا ہے، جیسے وہ شخص جس کا کھڑے ہونے کی حالت میں زخم بہنے لگتا ہو یا پیشاب کے قطرے بہتے ہوں۔

مذکورہ عبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:

أي يلزمه الإيماء قاعدا لخلفيته عن القيام الذي عجز عنه حكما إذ لو قام لزم فوت الطهار

یعنی اس پر بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کرنا لازم ہے، کیونکہ وہ کھڑے ہونے سے شرعاً اس وجہ سے عاجز ہے کہ اگر کھڑا ہو تو طہارت کا فوت ہونا لازم آئے گا۔ (ردالمحتار مع در مختار، جلد1، صفحہ445، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)

ہر وہ طریقہ جس سے معذورِ شرعی کا عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے، اس کا اختیار کرنا معذور  پر فرض ہے۔ جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: اگر کسی ترکیب سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے تو اس ترکیب کا کرنا فرض ہے، مثلاً کھڑے ہوکر پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھےتو نہ بہے گا، تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔ (بہار شریعت، جلد1، حصہ2، صفحہ387، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جب کوئی شخص دو آزمائشوں میں مبتلا ہوجائے تو اس کو حکم ہے کہ ان میں سے کمتر کو اختیار کرے۔ جیسا کہ شرح الزیادات میں امام قاضی خان اَوْزجندی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں:

أن المبتلى بين الشرين يختار أهونهما۔۔۔لو صلى قائما سلس بوله، أو سال جرحه، أو لا يقدر على القراءة، ولو صلى قاعدا، لم يصبه شيء من ذلك، فإنه يصلي قاعدا، يركع، ويسجد لأنه ابتلي بين ترك القيام، وبين الصلاة مع الحدث أو بدون القراءة، وترك القيام أهون، فإنه يجوز حالة الاختيار، وهو التطوع على الدابة وترك القراءة لا يجوز إلا لعذر وكذا الصلاة مع الحدث

یعنی جو شخص دو آزمائشوں میں مبتلا ہو جائے، وہ ان میں سے ہلکی آزمائش کو اختیار کرے۔ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو پیشاب کے قطرے آتے ہوں یا زخم سے خون بہنے لگتا ہویا وہ قراءت پر قادر نہیں رہتا اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو ان میں سے کوئی چیز واقع نہیں ہوتی، تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھے گا اور رکوع و سجود بھی کرے گا، کیونکہ وہ دو چیزوں میں مبتلا ہے: ایک یہ کہ قیام چھوڑ دے اور دوسرا یہ کہ نماز ایسے حال میں پڑھے کہ اسے حدث لاحق ہو جائے یا قراءت ترک کرنی پڑے اور ان میں قیام کا ترک کرنا کمتر ہے، کیونکہ قیام کا ترک حالت اختیار میں بھی جائز ہے، جیسے نفل نماز سواری پر پڑھنا، مگر قراءت چھوڑنا بغیر عذر جائز نہیں، اور نہ ہی حدث کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔ (شرح الزیادات، جلد1، صفحہ234 تا239، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: OKR-0174

تاریخ اجراء: 20جمادی الاخری1447ھ/12دسمبر 2025 ء