حیض کا خون وقفے وقفے سے آئے تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حیض کا خون وقفے وقفے سےآئے تو نمازوں کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان ِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت کو آٹھ دن ماہواری کی عادت ہے مگر دو دن لگاتار خون آنے کے بعد تیسرے دن سے رک رک کر آتا ہے اور اس رکنے کے درمیان کئی نماز وں کا وقت چلا جاتا ہے تو وہ عورت خون منقطع ہونے کے وقت نماز کے آخر وقت تک انتظار کر کے حیض کے پہلے تین دن کے اندر وضو کر کے نماز پڑھتی ہے اور تین دن کے بعد انقطاع کی صورت میں غسل کر کے نماز پڑھتی ہے۔
پوچھنا یہ ہےکہ:
(1) آخرِ وقت سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت فر ما دیجیے۔
(2)اور اگر کوئی عورت رک رک کر خون آنے کے باوجود (جبکہ انقطاع کے دوران کئی نمازوں کا وقت گزر جائے) نماز نہ پڑھے اور باری کے دن مکمل ہونے کا انتظار کرے تو کیا وہ گنہگار ہوگی؟
جواب
(1)آخرِ وقت سے مراد آخرِ وقتِ مستحب ہے، یعنی جس نماز کے وقت میں خون منقطع ہوا‘ اس کے مستحب وقت کے آخری حصے میں نماز پڑھے اور اس وقت تک انتظار کرنا واجب ہےجیسے نماز عصر میں وقتِ مکروہ شروع ہونے سے پہلے جو وقتِ مستحب کا آخری حصہ ہے اس میں نماز پڑھے۔
(2) ایسی صورت میں خون منقطع ہونے کے وقت نماز پڑھنا احتیاطاً لازم ہے‘ حتی کہ ایسی عورت جس کی یہ عادت ہو کہ ایک دن خون آتا ہو اور دوسرے دن نہیں پھر ایک دن آتا ہو دوسرے دن نہیں، اس صور ت میں بھی فقہاء کرام نے جس دن خون نہیں آتا اس دن اس عورت کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ۔ لہٰذا اگر خون منقطع ہوا اور اس بیچ کئی نمازوں کا وقت چلا گیا اور عورت نے نماز نہ پڑھی تو چونکہ اس نے ایک لازم حکم کی خلاف ورزی کی اس لیے گناہگار ہوگی‘ اگر چہ حیض کا خون لوٹنے پر ان نمازوں کی قضا نہیں۔
نماز کے وقت ِ آ خر سے مراد مستحب وقت کا آخر ہے:
المحیط البرھانی میں ہے:
”وإنما تؤخر الاغتسال والصلاة إلى آخر الوقت المستحب دون الوقت المكروه“
ترجمہ: غسل اور نماز میں تاخیر آخرِ مستحب وقت تک کرے گی نہ کہ وقتِ مکروہ تک۔ (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج 1، ص 217، 218، دار الکتب العلمیۃ)
ہندیہ میں ہے:
”ومتى طهرت المبتدأة دون العشرة أو المعتادة دون عادتها أخرت الوضوء والاغتسال إلى آخر الوقت بحيث لا تدخل الصلاة في الوقت المكروه كذا في الزاهدي“
ترجمہ: اور جسے پہلی بار دس دن سے کم حیض آیا یا عادت والی جسے عادت سے کم خون آیا اگر پاک ہوں تو وضو اور غسل نماز کے آخری وقت میں کریں یوں کہ مکروہ وقت داخل نہ ہو، زاہدی میں اسی طرح ہے۔ (الفتاوى الهندية، ج 1، ص 39، دار الفکر، بیروت)
در مختار میں ہے: ”تتوضأ وتصلي في آخر الوقت“ ترجمہ: وضو کرے اور نماز کے آخری وقت میں نماز ادا کرے۔
اس کے تحت طحطاوی اور شامی میں ہے:
”أي في آخر الوقت المستحب، وتأخيره إليه واجب هنا“
ترجمہ: یعنی مستحب وقت کے آخری حصہ میں، اور اس وقت تک تاخیر واجب ہے۔ (الدر المختار ورد المحتار، ج1، ص294، دار الفکر، بیروت)(طحطاوی علی الدر، ج 1، ص680 ، دار الکتب العلمیۃ)
ذخر المتأھلین میں ہے: ”تنتظر الی آخر الوقت المستحب وجوباً“ ترجمہ: نمازکے مستحب وقت کے آخر تک لازماً انتظار کرے۔ (ذخر المتأھلین، صفحہ 78، دار الفکر)
بہار شریعت میں ہے: ”حیض و نفاس عادت کے دن پورے ہونے سےپہلے بند ہو گیا تو آخرِ وقت مستحب تک انتظار کرکے نہا کر نماز پڑھے۔“ (بہار شریعت، ج 1، ص381 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اور خون منقطع ہونے پر نماز پڑھنا لازم ہے:
ہندیہ میں ہے:
”لو انقطع دمها دون عادتها يكره قربانها وإن اغتسلت حتى تمضي عادتها وعليها أن تصلي وتصوم للاحتياط. هكذا في التبيين“
ترجمہ: اگر عادت والی کا خون عادت سے قبل منقطع ہوگیا تو اس سے جماع مکروہ ہے اگر چہ غسل کرلے حتی کہ اس کی عادت کے ایام گزر جائیں اور اس پر احتیاط کی وجہ سے لازم ہے کہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے، اسی طرح تبیین میں ہے۔ (ھندیہ، ج 1، ص 39، دار الفکر، بیروت)
المحیط البرھانی میں ہے:
”وإن كانت معتادة وعادتها في أيام حيضها أنها ترى يوماً دماً ويوماً طهراً هكذا إلى العشرة، فإن رأت الدم في اليوم الأول تترك الصوم والصلاة، وإن طهرت في اليوم الثاني تتوضأ وتصلي، فإن رأت الدم في اليوم الثالث فإنها تترك الصلاة والصوم لأنه تبين أنه حيض فإذا طهرت في اليوم الرابع تغتسل وتصلي هكذا تفعل إلى العشرة“
ترجمہ: عادت والی کی یہ عادت ہو کہ ایام حیض میں ایک دن خون دیکھتی ہے اور ایک دن طہر اسی طرح دس دن تک معاملہ رہتا ہے، تو جب پہلے دن خون دیکھے نماز و روزہ چھوڑ دے، اور جب دوسرےدن طہر دیکھے وضو کرے اور نماز پڑھے، پھر جب تیسرے دن خون دیکھے تو نماز روزہ چھوڑ دے کیونکہ واضح ہوا کہ یہ حیض ہے اور جب چوتھے دن طہر دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے اسی طرح دس دن تک کرے۔ (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج 1، ص 218، دار الکتب العلمیۃ)
البتہ ایسی عادت ہونے کی صورت میں یہاں انقطاع والے درمیانی دنوں میں نما زکے لزوم پر ایک شبہہ وارد ہوتا ہے، وہ شبہہ اور اس کا جواب، حیض و نفاس کے احکام میں یوں بیان کیا کہ: ”اوپر والی صورت میں جب عورت کی عادت ہے کہ اسے ایک دن خون آتا ہے دوسرے دن نہیں آتا تو خون نہ آنے والے دن بھی اسے نماز کی معافی ہونی چاہیے کیونکہ اسے پتا ہےکہ اگلے دن پھر خون آجانا ہے لیکن یہاں معافی کیوں نہیں؟
جواب: خون آنے کی عادت ہمیشہ برقرار نہیں رہتی بلکہ کبھی بھی تبدیل ہو سکتی ہے یعنی ممکن ہے پچھلے مہینے تک تو اس کی یہ عادت تھی لیکن اس بار عادت تبدیل ہوجائے اور ایک دن خون آنے کے بعد پھر مزید نہ آئے یا تین دن آنے کے بعد پھر مزید نہ آئے یعنی جب بھی خون رک جائے گا تو آئندہ دوبارہ نہ آنے کا احتمال بھی رہے گا اور خون رکنے والے دن ظاہری طور عورت پاک ہے نماز چھوڑنے کا کوئی عذر اس کے پاس نہیں اس لیے شریعت نے اس کو یہی حکم دیا ہےکہ جب بھی خون رک جائے چاہے عادت کے دن پورے ہوئے ہیں یانہیں وہ نماز شروع کردے۔“ (خواتین کے مخصوص مسائل، ص95، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0239
تاریخ اجراء: 07 جمادی الاولٰی 1445ھ/22 نومبر2023ء