بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی کو سات دن حیض کی عادت ہو اور اب نو دن ہو گئے ہوں تو یہ حیض میں شمار ہو گا یا استحاضہ میں ؟
اصول یہ ہے کہ جس عورت کی ماہواری کی عادت مقرر ہو، پھر خون عادت کے دنوں سے بڑھ جائے تو اس صورت میں عورت کیلئے حکم یہ ہے کہ وہ انتظار کرے، اگر عادت سے زائد خون آکر دس دن کے بعد بھی جاری رہے، تو اب عادت کے دنوں کے بعد آنے والا سارا خون استحاضہ یعنی بیماری کا خون کہلائے گا اور اُن دنوں کی نمازیں معاف نہیں ہوں گی، جبکہ اگر خون دس دن کے اندر اندر آنا بند جائے، تو یہ سمجھا جائے گا کہ اُس عورت کی ماہواری کی عادت تبدیل ہوگئی ہے اور عادت سے زائد جتنے دن تک خون آیا ہے، وہ سب دن اس کے ماہواری کے شمار ہوں گے، اس صورت میں اُن تمام دنوں کی نمازیں معاف ہوں گی، لیکن یہ اس وقت ہے کہ جب عورت کو حیض سے پہلے ایک کامل طہر یعنی کم از کم پندرہ دن پاکی کے گزرچکے ہوں اور اسی طرح حیض رکنے کے بعد بھی کم از کم پندرہ 15 دن تک خون نہ آئے۔
لہذا صورت مسئولہ کا جواب یہ ہوگا کہ اگر ماہواری کی عادت 7 دن تھی اور خون زائد ہوکر دس دن سے بھی بڑھ گیا، تو عادت کے دنوں(سات دن) تک حیض شمار ہوگا اور اس کے بعد آنے والا سارا خون استحاضہ یعنی بیماری کا خون کہلائے گا۔لیکن اگر ایک کامل طہر یعنی کم از کم پندرہ دن پاکی کی بعد 7 دن کی عادت سے بڑھ کر 9 دن تک خون آئے اور پھر بند ہوجائے اور کم از کم پندرہ دنوں تک عورت پاک رہے، تو اس صورت میں نو(9) دنوں تک آنے والا خون اگرچہ عادت(7 دن) سے زائد ہوگا، مگر چونکہ دس دن کے اندر اندر آنا بند ہوگیا ہے، لہذا عورت کی عادت 7 دن سے تبدیل ہو کر نو(9) دن مقرر ہوجائے گی، اور یہ 9 دنوں تک آنے والا سب خون حیض ہی شمار ہوگا، اور اُن دنوں کی نمازیں معاف ہوں گی۔
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
’’(وأقلہ ثلاثۃ ایام بلیالیھا)الثلاث(وأکثرہ عشرۃ)بعشر لیال(والناقص )عن أقلہ(والزائد)علی اکثرہ۔۔۔۔(استحاضۃ)‘‘
ترجمہ: اور حیض کی کم سے کم مدت تین دن تین راتیں ہے، اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں ہیں، اور جوخون اپنی اقل مدت سے کم ہو اور جو اپنی اکثر مدت سے زیادہ ہو وہ استحاضہ ہے۔
اس کے تحت رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
’’(قولہ: والزائد علی اکثرہ)أی فی حق المبتدأۃ؛أما المعتادة فما زاد على عادتها و يجاوز العشرة في الحيض و الأربعين في النفاس يكون استحاضة۔۔۔ أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا ‘‘
ترجمہ: ان کا قول کہ اکثر مدت سے زیادہ خون استحاضہ ہے یعنی یہ پہلی بار خون دیکھنے والی عورت کے بارے میں ہے۔ بہر حال عادت والی عورت تو جو خون اس کی عادت سے بڑھ جائے اور حیض میں دس دن اور نفاس میں چالیس دن سے تجاوز کر جائے، تو (عادت سے زائد تمام دنوں کا خون) استحاضہ ہوگا۔۔۔بہرحال اگر حیض و نفاس میں خون اکثرمدت سے تجاوز نہ کرے تو ان دونوں میں عادت کی تبدیلی کا حکم ہوگا، لہذا عادت سے زائد آنے والا سارا خون حیض اور نفاس ہوگا۔ (تنویر الابصار مع درمختار و رد المحتار، جلد 1، باب الحیض، صفحہ 524، 523، دار المعرفۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’دس رات دن سے کچھ بھی زِیادہ خون آیا تو اگر پہلے اُسے حَیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زِیادہ ہو اِستحاضہ ہے۔ اسے یوں سمجھو کہ اس کو پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حَیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حَیض کے باقی سات دن اِستحاضہ کے‘‘۔ (بہار شریعت، جلد1، حصہ2، صفحہ372، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حیض و نفاس کے مسائل کا مجموعہ بنام ’’خواتین کے مخصوص مسائل‘‘ میں ہے: ’’جتنے دن حیض آنے کی عادت تھی، اس بار اتنے دن سے کم آیا، یا زیادہ آیا۔۔۔لیکن ہے دس دن سے کم تو یہ سارے کا سار احیض شمار ہوگا۔۔۔لیکن یہ اسی وقت ہے کہ جب حیض سے پہلے اور حیض رُکنے کے بعد ایک کامل طہر یعنی کم از کم پندرہ (15) دن خون نہ آئے۔ (مثلاً اگر کسی عورت کی) عادت مہینے کے ابتدائی پانچ (5) دن حیض اور پچپن(55) دن پاک رہنے کی تھی۔ اگلی بار عادت کے مطابق مہینے کے شروع میں پانچ(5) دن خون آیا، پھر پچپن (55) دن پاک رہی اور پھر اگلے نو (9) دن خون آیا، تو اس صورت میں آخری نو(9) دن حیض شمار ہوں گے، کیونکہ ان سارے دنوں کو حیض بنانا ممکن ہے اور اب عورت کی عادت پانچ (5) دن سے بدل کرنو( 9) دن قرار دی جائے گی‘‘۔ (خواتین کے مخصوص مسائل، صفحہ77، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-975
تاریخ اجراء: 16 جمادی الاولٰی1446ھ/08 نومبر 2025ء