Durood Tunjina ki Mannat Mani Tu Kya Haiz Mein Parh Sakte Hain?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
درودِ تنجینا کی منت مانی ہو، تو وہ حیض کی حالت میں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کچھ لوگ کہتے ہیں حیض کی حالت میں درود تنجینا پڑھ سکتے ہیں، لیکن اگر کسی حاجت وغیرہ کے لئے اس کو پڑھنے کی منت مانی ہے، تو اب حیض کی حالت میں پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اس حوالے سے کیا حکمِ شرع ہے؟
جواب
ماہواری کی حالت میں عورت درود تنجینا پڑھ سکتی ہے، چاہے منت مانی ہو یا نہ مانی ہو کوئی حاجت درپیش ہو یا ویسے ہی حصولِ برکت و ثواب کےلیے پڑھے، بہرصورت درود تنجینا یا کوئی اور درود پاک پڑھنا بلاکراہت جائزہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ پڑھنے سے پہلے وضو یا کلی کر لی جائے۔ یاد رہے کہ یہ حکم دورد پاک وغیرہ ذکر و اذکار کے لیے ہے تاہم اس حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا حرام ہے، ہاں وہ آیات جو خالص حمد و ثناء پرمشتمل ہوں اور انہیں حمد و ثناء کی نیت سے پڑھے تواس کی اجازت ہے۔
بہارِ شریعت میں ہے: قرآن مجید کے علاوہ تمام اذکار، کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلاکراہت جائز، بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وضو یا کلی کر کے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حرج نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 379، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1940
تاریخ اجراء: 01 ربیع الآخر 1446ھ / 04 اکتوبر 2024ء