بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی حیض والی عورت میقات سے احرام کی نیت کر لے اور حیض کی وجہ سے عمرہ نہ کرے، تو پھر پاک ہونے کے صورت میں کیا اُسے دوبارہ احرام کی نیت کیلئے مسجد عائشہ جانا ہوگا، یا غسل کے بعد تمام ارکان ادا کر لے؟
حیض کی حالت میں عورت احرام کی نیت کرلے تو وہ احرام میں داخل ہوجاتی ہے۔ حیض کی وجہ سے بس عمرہ فوراً ادا نہیں کرسکتی، بلکہ پاک ہونے کا انتظار کرتی ہے، لیکن اس انتظار کے سبب اُس کا احرام ختم نہیں ہوجاتا، وہ بدستور احرام میں برقرار رہتی ہے اور اس دوران تمام ممنوعاتِ احرام سے بچنا بھی لازم ہوتا ہے۔ لہذا جب احرام باقی ہے تو ایسی عورت پاک ہوجانے پر صرف غسل کر کے اُسی احرام کے ساتھ عمرہ کرلے گی، نئے احرام کی نیت ہرگز نہیں کرے گی۔ اگر وہ نئے احرام کی نیت کرے گی تو دو احراموں کو جمع کرنے اور پھر اُن میں سے ایک کے رفض (ختم) ہوجانے کے سبب اُس رفض ہونے والے عمرے کی قضا اور ایک دم لازم ہوجائے گا۔
اگر کوئی عمرے کے دو احراموں کو جمع کرلےتو ایک کے افعال شروع کردینے سے دوسرے کا خود بخود رفض ہوجائے گا اور رفض ہونے والے عمرے کی قضا کے ساتھ ایک دم بھی لازم ہوگا، چنانچہ بحر الرائق ميں ہے:
و إن كانا معا أو على التعاقب فالحكم كما تقدم في الحجتين من لزومهما عندهما خلافا لمحمد من ارتفاع أحدهما بالشروع في عمل الأخرى عند الإمام خلافا لأبي يوسف و وجوب القضاء و دم للرِفض
ترجمہ: اور اگر دو عمروں کا احرام ایک ساتھ ہو یا ایک کے بعد دوسرے کا ہو تو اس کا حکم وہی ہے جو دو حج کو جمع کرنے کا بیان ہوا یعنی یہ دونوں عمرے شیخین کے نزدیک لازم ہوجائیں گے، برخلاف امام محمد کے۔ اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دوسرے کے افعال میں شروع ہونے سے اُن میں سے ایک کا ارتفاع ہوجائے گا، برخلاف امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے اور اس چھوٹنے والے عمرے کی قضا واجب ہوگی اور رِفض (ترکِ) عمرہ کا ایک دم لازم ہوگا۔ (البحر الرائق، جلد 3، باب اضافۃ الاحرام الی الاحرام، صفحہ 56، دار الكتاب الإسلامي)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-989
تاریخ اجراء: 03 جمادی الاخری 1447ھ / 25 نومبر 2025ء