logo logo
AI Search

حالتِ حیض میں احرام کی نیت کا شرعی حکم

حالتِ حیض میں احرام کی نیت

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ اگر کوئی عورت پاکستان سے عمرہ پر جانے کا ارادہ رکھتی ہے تو جس وقت روانگی ہو اس دن وہ حیض کی حالت میں ہو تو کیا کیا جائے؟ کیا احرام اس حالت میں باندھا جا سکتا ہے؟ نیز اسی حالت میں غُسْل کیا جائے گا جیساکہ عام حالت میں بھی غسل کرکے احرام باندھا جاتا ہے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

حالتِ حیض میں بھی احرام کی نیّت (Intention) ہوسکتی ہے اور جو عورت عمرہ کے لئے ہی پاکستان سے سفر کررہی ہے اس پر لازم ہے کہ احرام کے بغیر مِیقات سے نہ گزرے، اور حالتِ حیض میں ہونا، احرام سے مانِع نہیں ہے، اور حالتِ حیض یا نِفاس والی عورت کو بھی حُکم ہے کہ احرام سے پہلے غسل بھی کرے کیونکہ یہ غسل طَہارت کے لئے نہیں ہے بلکہ صفائی، سُتھرائی اور اپنے آپ سے بدبو کو دور کرنے کے لئے ہے۔

اس حالت میں چونکہ عورت پر قراٰن کی تلاوت کرنا، نماز پڑھنا، مسجِد میں جانا، طواف کرنا یہ سب کام حرام ہیں لہٰذا وہ عورت احرام کی نیّت ضرور کرے گی اور احرام کی تمام پابندیوں کا بھی خَیال رکھے گی، لیکن مکّۂ مُکرّمہ پَہُنچ کر بھی جب تک حیض کی حالت رہے وہ مسجد میں نہیں جائے گی بلکہ ہوٹل میں ہی پاک ہونے کا انتظار کرے گی، جب حیض خَتم ہوجائے تو پھر پاکی کے لئے غسل کرے اور پھر طواف اور دیگر مناسکِ عُمرہ ادا کرے۔

ہاں البتہ اس حالت میں تلاوتِ قراٰن کے علاوہ تسبِیحات، دُرُود شریف، ذِکرُاللہ، وغیرہ کرنا مَنْع نہیں ہے، اس کی اجازت ہے بلکہ جتنے دن ایسی حالت میں رہے تو یہ اعمال بجالاتی رہے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَ جَلَّ ثواب کا ذخیرہ حاصل ہوگا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری

تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017ء