Haiz mein Bosa Lene se Aurat ko Inzal Hua To Kya Hukum Hai?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مخصوص ایام میں شوہر کے بوسہ لینے سے عورت کو انزال ہوگیا، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مخصوص ایام کے دوران شوہر بیوی کا بوسہ لے اور بیوی کو انزال ہوجائے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
شوہر ایامِ حیض میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے، بوسہ لینے کی شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے البتہ ان دنوں میں بیوی کے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کسی بھی مقام کو اپنے کسی حصۂ بدن سے بلا حائل نہیں چھوسکتا۔ ہاں اگر درمیان میں اتنا موٹا کپڑا حائل ہو جس سے بدن کی گرمی محسوس نہ ہو، تو چھو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم کے دیگر مقامات کو چھونا یا بوس و کنار کرنا، جائز ہے چاہے بوس و کنار کرنے سے بیوی کو انزال ہوجائے اس میں کوئی حرج نہیں۔
فتاوٰی رضویہ میں ہے: کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض میں و نفاس میں زیرِ ناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلا کسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسمِ عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے، تمتع جائز نہیں یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقاً تمتع جائز یہاں تک کہ سحقِ ذکر کر کے انزال کرنا۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 04، صفحہ 353، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
حیض و نفاس کے احکام بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01 ، صفحہ 382، مکتبۃ المدینہ، کراچی، ملتقطاً)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1945
تاریخ اجراء: 26 ربیع الاول 1446ھ / 01 اکتوبر 2024ء