logo logo
AI Search

Shohar ki Ijazat ke Baghair Biwi Ka Nafil Roza Rakhna Kaisa?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی نفلی روزہ رکھ سکتی ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کےبارے میں کہ میں مدنی چینل دیکھتی ہوں اور اجتماع پر بھی جاتی ہوں، وہاں بیان میں ہر ماہ کچھ نہ کچھ نفل روزے رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس کی کارکردگی بھی لی جاتی ہے اور بعض اوقات روزہ رکھنے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے لیے امیرِ اہلِ سنّت دامت برکاتہم العالیہ کی پیاری پیاری دعائیں بھی سنائی جاتی ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر مارکیٹنگ کا کام کرتے ہیں، عموماً اپنے شہر میں ہی مختلف اوقات میں لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور بعض اوقات کمپنی کے کام کے سلسلے میں ایک، دو دن کے لیے شہر سے باہر بھی جاتے ہیں، تو کیا میں اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نفل روزہ رکھ سکتی ہوں؟

جواب

نفل روزے رکھنا، بلا شبہ کارِ ثواب اور کثیر دنیوی و اخروی فضائل و برکات کا ذریعہ ہے، البتہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے بعد جب تک شرعی رکاوٹ نہ ہو، عورت کے لیے شوہر کی رضا و خوشنودی کو مقدم رکھنا، شرعاً مطلوب ہے، اسی بنا پر احادیثِ طیبہ میں عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر نفل روزے سے منع کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے شوہر کو عورت کی حاجت ہو اور روزہ کی حالت میں وہ اس پر قادر نہ ہو، چنانچہ حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر نفل روزہ رکھنے سے شوہر کی خدمت میں حرج واقع ہوتا ہو، تو عورت کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر نفل روزہ رکھنا، مکروہِ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، اگر بلااجازت رکھے گی، تو شوہر کو روزہ تڑوانے کا اختیار ہے، اگر شوہر روزہ تڑواتا ہے، تو عورت پر اُس روزے کی قضا واجب ہوگی اورقضا کے لیے بھی شوہرکی اجازت ضروری ہے، ہاں اگر روزہ رکھنے سے شوہر کی خدمت میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہوتا ہو، مثلاً شوہر شہر سے باہر ہے یا خود روزہ سے ہے، تو ایسی صورت میں نفل روزہ کے لیے شوہرکی اجازت ضروری نہیں، بلکہ شوہر منع بھی کرے، تب بھی عورت روزہ رکھ سکتی ہے۔

عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیرنفل روزہ رکھنا جائز نہیں، چنانچہ صحیح بخاری کی حدیثِ پاک میں ہے:

لا يحل للمرأة أن تصوم و زوجها شاهد الا باذنہ

ترجمہ: عورت کے لیے شوہر کی موجودگی میں اُس کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ رکھنا حلال (جائز) نہیں۔ (صحیح البخاری، باب صوم المراۃ باذن زوجھا، جلد 2، صفحہ 782، مطبوعہ کراچی)

مذکورہ بالاحدیث پاک کے تحت علامہ بدرالدین عینی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں:

زوجها شاهد أی: حاضر يعني مقيم في البلد إذ لو كان مسافرا فلها الصوم لأنه لا يتأتي منه الاستمتاع بها و قال الكرماني: قال أصحابنا: النهي للتحريم

ترجمہ:عورت کا شوہر موجود ہو یعنی (عورت کے ساتھ اس) شہر میں موجود ہو، اس لیے کہ اگر شوہر سفر پر ہو، تو عورت کے لیےروزہ رکھنا جائز ہے، کیونکہ (اس صورت میں) شوہرعورت سے خواہش پوری نہیں کرسکتا اور امام کرمانی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے فرمایا: (حدیثِ مبارک میں) ممانعت تحریمی ہے۔ (عمدۃ القاری، کتاب النکاح، جلد 20، صفحہ 184، مطبوعہ بيروت)

شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہونے کے متعلق مراقی الفلاح میں ہے:

کرہ للصائم سبعۃ اشیاء

ترجمہ: روزے دار کے لیے سات چیزیں مکروہ (تحریمی) ہیں۔ مذکورہ بالا عبارت کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

ظاهر إطلاقه الكراهة يفيد أن المراد بها التحريمية... و صوم المرأة تطوعا بغير إذن زوجها

ترجمہ: ماتن عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ كا كراہت کو مطلق رکھنا اِس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ مراد کراہتِ تحریمی ہے۔ اور عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنا (مکروہِ تحریمی ہے)۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصوم، صفحہ 679، مطبوعہ کوئٹہ)

نفل روزے کے لیے شوہر کی اجازت ضروری ہونے یا نہ ہونے کے متعلق تفصیلی کلام کرتے ہوئے ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

و ليس للمرأة التي لها زوج أن تصوم تطوعا إلا بإذن زوجها، لما روي عن النبی علیہ السلام و لأن له حق الاستمتاع بها و لا يمكنه ذلك في حال الصوم، و له أن يمنعها إن كان يضره، لما ذكرنا أنه لا يمكنه استيفاء حقه مع الصوم فكان له منعها فإن كان صيامها لا يضره بأن كان صائما أو مريضا لا يقدر على الجماع فليس له أن يمنعها، لأن المنع كان لاستيفاء حقه فإذا لم يقدر على الاستمتاع فلا معنى للمنع… و للزوج أن يفطر المرأة إذا صامت بغير إذنه و تقضي المرأة إذا أذن لها زوجها أو بانت منه

ترجمہ: شوہر والی عورت کےلیے شوہر کی اجازت کے بغیر نفل روزہ رکھنا جائز نہیں، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی حدیث کی وجہ سے۔ اور اس لیے بھی کہ عورت سے نفع حاصل کرنا شوہر کا حق ہے اور روزہ کی حالت میں شوہر انتفاع پر قادر نہیں ہوگا، اگر شوہر کو ضرر ہوتا ہو، تو اسے منع کرنےکا اختیار ہے، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کیا کہ روزہ کی حالت میں شوہر اپنا حق پانے پر قادر نہیں ہوگا، تواس کومنع کرنے کا اختیار ہے۔ اور اگرعورت کا روزہ رکھنا شوہر کے لیے ضرر کا باعث نہ ہو، یوں کہ شوہر خود روزہ دار ہو یا ایسا مریض ہو کہ جماع پر قادر نہ ہو، تو اسے منع کرنے کا اختیار نہیں، اس لیے کہ منع کرنا اپنا حق پانے کے لیے تھا، جب انتفاع پر قادر ہی نہیں، تو منع کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔ اور جب عورت شوہرکی اجازت کے بغیر روزہ رکھے، تو شوہر کو تڑوانے کا اختیار ہے اورعورت اس روزے کی قضا تب رکھے گی، جب شوہراس کی اجازت دے یا جب عورت بائنہ ہوجائے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 638، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: عورت بغیر شوہر کی اجازت کے نفل اور منّت و قسم کے روزے نہ رکھے اور رکھ لیے، تو شوہر تڑوا سکتا ہے، مگر توڑے گی، تو قضا واجب ہوگی، مگر اس کی قضا میں بھی شوہر کی اجازت درکار ہے یا شوہر اور اُس کے درمیان جدائی ہو جائے یعنی طلاق بائن دیدے یا مر جائے، ہاں اگر روزہ رکھنے میں شوہر کا کچھ حرج نہ ہو مثلاً وہ سفر میں ہے یا بیمار ہے یا احرام میں ہے، تو ان حالتوں میں بغیر اجازت کے بھی قضا رکھ سکتی ہے، بلکہ اگر وہ منع کرے جب بھی۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1008، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9019
تاریخ اجراء: 24 محرم الحرام 1446ھ / 31 جولائی 2024ء