عاصم (ASIM) نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عاصم (ASIM) نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عاصم نام رکھنا درست ہے؟
جواب
عاصم نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے، کہ یہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام ہے۔ اور ہمیں حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیز امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں متعدد صحابہ کرام کا ذکر موجود ہے جن کا نام عاصم ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں"عاصم الاسلمی۔۔۔ عاصم ابن ابی جبل۔۔۔ عاصم بن حصین۔۔۔ عاصم بن عدی۔۔۔ عاصم بن العکیر۔۔۔ عاصم بن قیس" (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 2، صفحہ 90-91، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے"تسموا بخياركم"ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4828
تاریخ اجراء: 20 رمضان المبارک1447ھ/ 10 مارچ 2026ء