ایاز نام رکھنا اور اس کا مطلب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچے کا نام ایاز رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بچے کا نام "ایاز" رکھنا کیسا ہے؟
جواب
"ایاز" فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے: "نسیم سحر، ٹھنڈی ہوا، نسیم شب وغیرہ"۔ ان معانی کے اعتبار سے بچے کا نام "ایاز" رکھنا جائز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا صالحین (نیک بزرگوں) کے نام پر بچے کا نام رکھا جائے؛ کیونکہ احادیث مبارکہ میں نیک لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، مزید یہ کہ جس نیک شخصیت کے نام پر نام رکھیں گے اس کی برکتیں بچے کے شامل حال ہونے کی بھی امید ہے۔
فارسی کی لغت "فرہنگِ عمید" میں " ایاز "لفظ سے متعلق لکھا ہے: " ایاز: نسیم شب، نسیم سرد، باد خنک "۔ (فرہنگِ عمید، باب: (ا) ، صفحۃ 212، کتاب خانہ ابنِ سینا، سن طباعت: 1343ھ، تہران)
فارسی کی لغت "فیروز اللغات" میں لفظ " ایاز " کا یہ معنی لکھا ہے: " ایاز : نسیم سحر ٹھنڈی ہوا؛ محمود غزنوی کا غلام۔" ( فیروز اللغات، صفحہ 89، فیروز سنزز، لاہور)
احادیث میں اچھے لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، مسند الفردوس میں حدیث پاک ہے: "تسموا بخياركم" ترجمہ: اپنے اچھے لوگوں کے ناموں پر نام رکھو۔ (مسند الفردوس، جلد 2، صفحہ 58، دار الكتب العلمية، بيروت)
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دس بیٹوں کے نام انبیاء کے نام پر رکھے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی: "فعلت ذلك تبركًا بهم" ترجمہ: میں نے ان سے برکت حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔ (النجم الوھاج فی شرح المنھاج ، جلد 9، صفحۃ 530، دار المنهاج، جدة)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبان خدا انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ "بہارِ شریعت" میں لکھتے ہیں:" بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنی نہیں یا اُن کے برے معنی ہیں ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے امید ہے کہ اُن کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔ " (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحۃ 356، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5266
تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر 1448ھ/05 اگست 2026ء