logo logo
AI Search

حُر نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بچے کا نام حُر رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

حُرّ کے معنی ہر قسم کی آمیزش سے پاک، اصلی، آزاد، شریف، ہر شے کا افضل اور عمدہ حصہ وغیرہ کے ہے، لہذا ان معانی کے پیش نظر یہ ایک اچھا نام ہے۔ نیز حُر کئی صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام بھی تھا، لہذا یہ نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اس لیے امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔

القاموس الوحید میں ہےالحُرُّ: ہر قسم کی آمیزش سے پاک، اصلی (2) آزاد (3) شریف (4) ہر شے کا افضل اور عمدہ حصہ (5) کچی کھائی جانے والی سبزی (6) چہرہ، چہرہ کا ظاہری حصہ (7) عمدہ کلام یا فعل۔ ( القاموس الوحید، صفحہ 326، مطبوعہ: لاہور)

الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ میں ہے ”الحرّ: بضم أوله و تشديد الراء- ابن خضرامة الضبيّ أو الهلالي، روى ابن شاهين من طريق سيف بن عمر، عن الصعب بن هلال الضبيّ، عن أبيه، قال: قدم على النبي صلّى اللہ عليه وسلّم الحر بن خضرامة۔ ۔ ۔ الحرّ: بن قيس بن حصن بن حذيفة بن بدر الفزاري، ابن أخي عيينة بن حصن ذكره ابن السّكن في الصّحابة“ ترجمہ: حُر بن خِضرامہ ضَبِی یا ہلالی: ان کے نام کا پہلا حرف پیش کے ساتھ اور راء مشدد ہے۔ ابن شاہین نے حضرت سیف بن عمر کے واسطے سے صعب بن ہلال ضبی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ حُر بن خِضرامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ۔ ۔ حُر بن قیس بن حصن بن حذیفہ بن بدر فزاری: یہ عیینہ بن حصن کے بھتیجے تھے۔ ابن السکن نے ان کو صحابۂ کرام میں شمار کیا ہے۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابۃ، جلد 02، صفحہ 51، دار الكتب العلمية، بيروت)

صحابہ کرام کے نام ذکر کرتے ہوئے نام رکھنے کے احکام نامی کتاب میں ہےحُر: خالص، ہر قسم کی آمیزش سے پاک، آزاد، شریف۔ (نام رکھنے کے احکام، صفحہ 137، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ و الثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص685 ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی(

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اللہ بخشا جائے گا۔ ( مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5220
تاریخ اجراء: 15 صفر المظفر 1448ھ / 30 جولائی 2026ء