زرایہ نام رکھنا اور اس کا مطلب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچی کا نام "زرایہ" رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بچی کا نام "زرایہ" رکھنا جائز ہے؟
جواب
زرایہ کا معنی ہے "کسی کام پر عتاب کرنا، عیب لگانا"، اس کے معنی مناسب نہیں ہیں، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے، اس کے بجائے کوئی اور اسلامی نام رکھا جائے، بہتر یہ ہے کہ ازواجِ مطہرات یا دیگر صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی۔
زرایہ کے معنی کے متعلق المنجد میں ہے ”زریٰ، زریا و زُریا و زرایۃ۔۔۔علیہ عملہ“ کسی کام پر عتاب کرنا، عیب لگانا۔ (المنجد، ص 335، مطبوعہ لاہور)
القاموس الوحید میں ہے ”زری علیہ۔ زریا و زرایۃ“ عیب لگانا، عتاب کرنا۔ (القاموس الوحید، ص 705، مطبوعہ لاہور)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ” نام رکھنے کے احکام “ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5259
تاریخ اجراء: 14 صفر المظفر1448ھ/29 جولائی 2026ء