logo logo
AI Search

لاحب (LAHIB) نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام لاحب (LAHIB) رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا لاحب نام رکھنا درست ہے؟

جواب

لاحب نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

”لاحب بن مالک البلوی من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم“

ترجمہ: لاحب بن مالک بلوی رضی اللہ تعالی عنہ، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں سے ہیں۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 2، صفحہ 540، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ  356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4818
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک1447ھ/11 مارچ 2026ء