logo logo
AI Search

مہرین نام رکھنا اور اس کا مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مہرین نام رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مہرین نام رکھ سکتے ہیں؟ اور اس نام کا مطلب کیا ہے

جواب

"مہرین" کا معنیٰ ہے: "منسوب بہ مہر" (یعنی سورج کی سی خوبصورتی رکھنے والی) کہ مہرین، دو لفظوں سے مرکب ہے: "لفظ مہر اور ین۔" مہر کا مطلب ہے: سورج، اور "ین" فارسی میں نسبت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، لہٰذا یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی پیدا ہو، تو اس کا نام امہات المومنین، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن اور دیگر نیک خواتین میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔

فیروز اللغات میں ہے ”مہر: ۔۔۔ آفتاب۔ سورج۔ شمس“ (فیروز اللغات، صفحہ 1387، فیروز سنز، لاہور)

فارسی کے اسم کے آخر میں "ین" کا اضافہ کرنے سے نسبت والا معنی آتا ہے، چنانچہ "دستور زبان فارسی" نامی کتاب میں صفت نسبتی کی وضاحت اور اس کی صورتیں بیان کرتے ہوئے لکھا: ”صفت نسبتی آن ست کہ نسبت بہ چیزی یا محلی را برساند و آن عبارت است از۔۔۔ ٣: (ین) و این در آخر اسما درآید مانند: سفالین، جوین، گندمین، بلورین، گلین“ ترجمہ: صفت نسبتی یہ ہے کہ کسی چیز یا مقام کی طرف نسبت کی جائے، اور یہ درج ذیل طریقوں سے آتی ہے، جن میں سے تیسرا طریقہ یہ ہے کہ: اسم کے آخر میں "ین" آتا ہے، جیسے سفالین، جوین، گندمین، بلورین، گلین۔ (دستور زبان فارسی، صفحہ 68، مطبوعہ: ایران)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4630
تاریخ اجراء: 22رجب المرجب1447ھ/12جنوری2026ء