logo logo
AI Search

مرحہ بتول نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام مرحہ بتول رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ مِرحہ بتول نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

لفظ مِرحہ کا معنی ہے کشمش کا ڈھیر اور بتول کے معانی ہیں: کنواری، زاہدہ عورت وغیرہ۔ یہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کا لقب بھی ہے۔ بچیوں کے نام کے ساتھ لفظ بتول کا اضافہ عموما بطور عقیدت اسی لقب سے برکت لینے کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے مردوں کے نام کے ساتھ لفظ محمد لگایا جاتا ہے۔ لہذا مِرحہ بتول نام رکھنے میں حرج نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کےشامل حال ہو گی۔

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے:

تسموا بخياركم

ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

لفظ مِرحہ کے متعلق المعجم الوسیط میں ہے

المرحۃ: الانبار من الزبیب و نحوہ

ترجمہ: مِرحہ کا معنی خشک انگور وغیرہ کا ڈھیر ہے۔ (المعجم الوسیط، باب المیم، ص 861،دار الدعوة)

القاموس الوحید میں ہے البتول: کنواری، زاہدہ عورت۔ (القاموس الوحید، ص 147، ادارہ اسلامیات، لاہور)

فیروز اللغات میں ہے: بتول: کنواری، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا لقب۔ (فیروز اللغات، ص 188، فیروز سنز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4824
تاریخ اجراء: 19رمضان المبارک1447ھ / 09مارچ2026ء