بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
محمد طلال نام رکھنا کیسا؟
لفظ "طلال"، "طَلٌّ" کی جمع ہے، اور اس کا معنی ہے: "خوش نما، دل پسند وغیرہ"، اس اعتبار سے طلال نام رکھنا درست ہے اور اس کے ساتھ لفظ "محمد" لگانا بھی درست ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں محمد نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا محمد نام رکھنے کی ہے۔ اور پھر پکارنے کے لیے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیائے کرام وصالحین میں سے کسی کے نام پر نام رکھ لیجئے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔ اور اگر پکارنے کے لیے سوال میں مذکور نام رکھنا چاہیں، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
المنجد میں ہے " الطل۔۔۔ ج طلال و طلل: خوش نما، دل پسند۔ بڑی عمر والا۔" (المنجد، صفحہ516، مطبوعہ: لاہور)
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“
ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ 422، حدیث: 45223، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے
”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“
ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 9، صفحہ 688، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ” بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اسمائے مبارَکہ کے وارِد ہوئے ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد24، صفحہ 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم “ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4633
تاریخ اجراء: 24رجب المرجب1447ھ/14جنوری2026ء