قارب نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قارب (QARIB) نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا قارب نام رکھنا درست ہے؟
جواب
قارب نام رکھنا، نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں ہے
قارب بن الاسود الثقفی۔۔۔ لہ صحبۃ
ترجمہ: قارب بن اسود ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 6، صفحہ 118، مطبوعہ: مصر)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔(الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4835
تاریخ اجراء: 23 رمضان المبارک 1447ھ / 13 مارچ 2026ء