logo logo
AI Search

رحیمہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام رحیمہ رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچی کا رحیمہ نام رکھنا کیسا؟

جواب

رحیمہ کا معنی ہے: بہت رحم والی، شفقت کرنے والی، مہربان۔ لہذا بچی کا یہ نام رکھنا درست ہے۔ یہ رحیم کی مونث ہے اور رحیم اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں سے ہے، لیکن یہ ایسا نام نہیں، جو اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ خاص ہو۔

البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نیک خواتین مثلاً امہات المومنین، حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی شہزادیوں، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن اور دیگر صالحات میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان ہستیوں کی برکت بچی کے شاملِ حال ہو گی۔ القاموس الوحید میں ہے الرحیم: بہت رحم والا، مشفق و مہربان۔ (القاموس الوحید، صفحہ 609، مطبوعہ: کراچی)

جو نام اللہ عزوجل کے ساتھ خاص نہیں ہیں، ان کے متعلق در مختار میں ہے

و جا ز التسمیۃ بعلی و رشید و غیرھما من الاسماء المشترکۃ و یراد فی حقنا غیر ما یراد فی حق اللہ تعالی

ترجمہ: اسمائے مشترکہ میں سے علی، رشید اور ان کے علاوہ نام رکھنا جائز ہے اور (ان اسما سے) جو معنی اللہ تعا لیٰ کے لیے مراد لیے جاتے ہیں، ہمارے حق میں اس کے علاوہ معنی مراد لیے جائیں گے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحضر و الاباحۃ، جلد 9، صفحہ 688, 689، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوٰی مصطفویہ میں ہے بعض اسماء الٰہیہ جو اللہ عزوجل کے لیے مخصوص ہیں جیسے اللہ، قدوس، رحمن، قیوم وغیرہ، انہیں کا اطلاق غیر پر کفر ہے، ان اسماء کا نہیں، جو اس کے ساتھ مخصوص نہیں جیسے عزیز، رحیم، کریم، عظیم، علیم، حی وغیرہ۔ (فتاوی مصطفویہ، صفحہ 90، شبیر برادرز، لاہور)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4642
تاریخ اجراء: 25 رجب المرجب 1447ھ /15 جنوری 2026ء