بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا بچے کا نام ساحر رکھ سکتے ہیں؟
اردو لغات میں ساحر کا عام طور پر معنی جادو کرنے والا، جادو گروغیرہ لکھا ہے، اِس اعتبار سے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بچے کا نام انبیائے کرام علیھم الصلوۃ و السلام، صحابہ کرام و اولیائے عظام علیھم الرضوان میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
فیروز اللغات میں ہے ساحر: جادوگر۔ جادو کرنے والا۔ (فیروز اللغات، صفحہ 806، مطبوعہ: کراچی)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اچھے نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے اچھا نام وہ ہے جو بے معنیٰ نہ ہو جیسے بدھوا، تلوا وغیرہ اور فخر و تکبر نہ پایا جائے جیسے بادشاہ، شہنشاہ وغیرہ اور نہ برے معنیٰ ہوں جیسے عاصی وغیرہ، بہتر یہ ہے کہ انبیائے کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلِ بیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم، اسمٰعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ، عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ ان شاء اللہ بخشا جائے گا اور دنیا میں اس کی برکات دیکھے گا۔ (مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4637
تاریخ اجراء: 23 رجب المرجب 1447ھ / 13 جنوری 2026ء