logo logo
AI Search

طارق (TARIQ) نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام طارق (TARIQ) رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا طارق نام رکھنا درست ہے؟

جواب

طارق نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے، کہ یہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام ہے، اور ہمیں حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں متعدد صحابہ کرام کا ذکر موجود ہے جن کا نام طارق ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

"طارق بن احمر۔۔۔ طارق بن عبد اللہ المحاربی۔۔۔ طارق بن عبید" (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد2، صفحہ71-73، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4830
تاریخ اجراء: 22 رمضان المبارک 1447 ھ/12 مارچ 2026 ء