واقد نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
واقد (WAQID) نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا واقد نام رکھنا درست ہے؟
جواب
واقد نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے، کہ یہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام ہے، اور ہمیں حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں واقد نام کے متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر موجود ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:
واقد بن الحارث۔۔۔ واقد مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ واقد بن عبد اللہ۔۔۔ واقد ابو مرواح (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 3، صفحہ 70 - 72، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4833
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک 1447ھ / 11 مارچ 2026ء