یوشع نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یوشع نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا یوشع نام رکھنا درست ہے؟
جواب
یوشع نام رکھنا نہ صرف درست ،بلکہ بہتر ہے کہ یہ اللہ تبارک وتعالی کے ایک برگزیدہ نبی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ و السلام کا نام ہے، اور ہمیں نبیوں علیہم الصلوۃ والسلام کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
سیرت الانبیاء میں ہے حضرت یوشع علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اصحاب میں حضرت ہارون علیہ السلام کے بعد سب سے عظیم المرتبہ ساتھی تھے ۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی ۔۔۔ آپ علیہ السلام کا نام یوشع اور نسب نامہ یہ ہے: یوشع بن نون بن افرائیم بن حضرت یوسف علیہ السلام بن حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام۔ (سیرت الانبیاء، صفحہ 655، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
تسموا باسماء الانبیاء
ترجمہ: تم انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ناموں پر نام رکھو۔ (سنن ابی داود، جلد 4، صفحہ 288، حدیث: 4950، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4849
تاریخ اجراء: 28 رمضان المبارک1447ھ / 18مارچ2026ء