logo logo
AI Search

زمہریر نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام زمہریر رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بچی کا نام زمہریر رکھنا کیسا ہے؟

جواب

زمہریر نام نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ جہنم کے ایک گڑھے کا نام ہے، جس میں کافر کو پھینکا جائے گا، تو سخت سردی سے اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نیک خواتین مثلاً امہات المومنین، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن اور دیگر صالحات میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بچی کے شامل حال ہو گی۔

تفسیر درِ منثور میں ہے

”زمھریر جھنم۔۔۔ بیت یلقی فیہ الکافر فیتمیز من شدۃ بردھا بعضہ من بعض“

ترجمہ: زمہریرِ جہنم ایک ایسا گڑھا ہے جس میں کافر کو ڈالا جائے گا تو اس کی ٹھنڈ کی شدت سے کافر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ (الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، جلد8، صفحہ373، مطبوعہ: بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”اچھے نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے اچھا نام وہ ہے جو بے معنیٰ نہ ہو جیسے بدھوا، تلوا وغیرہ اور فخر و تکبر نہ پایا جائے جیسے بادشاہ، شہنشاہ وغیرہ اور نہ برے معنیٰ ہوں جیسے عاصی وغیرہ، بہتر یہ ہے کہ انبیائے کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلِ بیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم، اسمٰعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ، عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ ان شاء اللہ بخشا جائے گا اور دنیا میں اس کی برکات دیکھے گا۔" (مراۃ المناجیح، جلد5، صفحہ30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4634
تاریخ اجراء: 24رجب المرجب1447ھ/14جنوری2026ء