نبی پاک ﷺ کی شہزادیوں کی نکاح سے متعلق خصوصیت

نبی پاک ﷺ کی شہزادیوں کی ایک خصوصیت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ جیسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کے ساتھ نکاح ہوتے ہوئے مولاعلی رضی اللہ عنہ کے لئے کسی بھی دوسری خاتون سے نکاح کرنا منع تھا۔ تو کیا یہ خصوصیت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر شہزادیوں کو بھی حاصل تھی کہ ان کے ساتھ نکاح ہوتے ہوئے ان کے شوہروں کے لئے دوسری خاتون سے نکاح منع تھا ؟ سائل: حافظ جنید مدنی (کامرہ، اٹک)

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حضرت سیدتنا فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح میں ہوتے ہوئے حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے کسی اور خاتون سے نکاح کی ممانعت اس لیے تھی کہ اس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اذیت ہوتی اور ان کی اذیت نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی ایذا  کا سبب بنتی، تو چونکہ یہی وجہ دیگر شہزادیوں کے معاملے میں بھی متصور تھی، لہذا معتمد علمائے سِیر وحدیث نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ یہ خصوصیت و فضیلت جیسے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حق میں تھی، ویسے ہی بقیہ بناتِ مقدسہ کو بھی حاصل تھی۔

امام محب طبری رحمہ اللہ(المتوفی: 694ھ) ذخائر العقبی میں، امام سیوطی رحمہ اللہ (المتوفی: 911ھ) خصائصِ کبری اور انموذج اللبیب میں، امام قسطلانی رحمہ اللہ (المتوفی: 923ھ) مواہب لدنیہ اور ارشاد الساری میں، امام صالحی شامی رحمہ اللہ (المتوفی: 942ھ) سبل الھدی و الرشاد میں، شیخ ملا علی القاری رحمہ اللہ (المتوفی: 1014ھ) مرقاۃ المفاتیح میں، علامہ مناوی رحمہ اللہ (المتوفی: 1031ھ) فیض القدیر میں ارشاد فرماتے ہیں:

واللفظ للصالحی الشامی ”روى الشيخان عن المسور بن مخرمة قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول وهو على المنبر: "أن بني هشام بن المغيرة استأذنوا في أن ينكحوا ابنتهم علي ابن أبي طالب، فلا آذن، ثم لا آذن، ثم لا آذن إلا أن يريد علي بن أبي طالب أن يطلق ابنتي وينكح ابنتهم، فإنما هي بضعة مني، يريبني ما أرابها ويؤذيني ما آذاها".قال الحافظ لا يبعد أن يكون من خصائص النبي صلى الله عليه وسلم منع التزوج على ابنته انتهى. وبه صرح الشيخ أبو علي السنجي في "شرح التلخيص" أنه يحرم التزوج على بناته صلى الله عليه وسلم“

ترجمہ: شیخین(امام بخاری ومسلم)رحمھما اللہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر اقدس پر ارشاد فرماتے ہوئےسنا: ”بنو ہشام بن مغیرہ نے اجازت مانگی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کریں۔ پس میں اجازت نہیں دیتا ہوں، میں پھر اجازت نہیں دیتا ہوں، میں پھر اجازت نہیں دیتا ہوں، سوائے اس صورت میں کہ علی بن ابی طالب میری بیٹی  کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں۔(کیونکہ)فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو چیز اسے بے چین کرتی ہے وہ مجھے بھی بے چین کر دیتی ہے، جو چیز اسے ایذاء دیتی ہے وہ مجھے بھی ایذاء  دیتی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: بعید نہیں کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہو کہ آپ کی بیٹی پر (یعنی ان کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسرا) نکاح کرنا منع ہو۔ اسی بات کی تصریح حضرت شیخ ابو علی سنجی رحمہ اللہ نے "شرح التلخیص" میں فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادیوں پر دوسرا نکاح کرنا حرام ہے۔ (سبل الھدی و الرشاد، جلد10، صفحہ 449، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

شیخِ محقق، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ "مدارج النبوۃ" میں فرماتے ہیں: ”وازآنجملہ آنست کہ تزوج کرده نشود بربنات وی صلی الله علیه وآله وسلم، یعنی اگر دخترانِ آنحضرت در نکاح روی باشد، نمی باید آن مرد را کہ بالاے وی زنی دیگر خواہد۔۔۔۔ پس آنحضرت حرام گردانید برعلی که نکاح کند بر فاطمه تا مدتِ حیات وی، و فرمود یا علی من دوست می دارم ترا، و می ترسم که آزارکنی فاطمه را که لازم می آید از آں آزارِمن، و منطوقِ این حدیث مخصوص است بفاطمه زهرا رضی الله عنها، و لیکن چون خواستگاری علت ایذ است، جاری گردانیده شد در جمیع بنات“ ترجمہ: (نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے) خصائص میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کی صاحبزادیوں کی موجودگی میں کسی اور سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ مطلب یہ کہ جب کسی شخص کے نکاح میں آپ کی کوئی صاحبزادی ہو، تو اسے جائز نہیں تھا کہ آپ کی صاحبزادی پر کسی اور عورت سے نکاح کر ے۔۔۔پس نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں دوسرا نکاح کرنا حرام فرما دیا اور فرمایا اے علی ! میں تم سے محبت کرتا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم فاطمہ کو اذیت نہ پہنچاؤ، جس سے مجھے بھی اذیت پہنچے۔ ظاہر ِ حدیث  اگرچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے، لیکن چونکہ اس کی علت اذیت پہنچانا ہے، لہذا یہ حکم سب شہزادیوں کے حق میں بھی شمار ہوا۔ (مدارج النبوۃ، جلد 1، صفحہ 156، مطبوعہ منشی نول کشور، کانپور، انڈیا)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب : مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر : pin-7676

تاریخ اجراء : 28ربیع الثانی1447ھ/22اکتوبر2025ء