تمام انبیائے کرام علیھم السلام کو حضور ﷺ کا امتی کہنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تمام انبیائے کرام علیھم السلام کو حضور ﷺ کا امتی کہنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
جی ہاں کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم سب انبیاء کے نبی ہیں، اور تمام انبیاء و مرسلین اور ان کی امتیں، سب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے امتی ہیں۔
امام عبد الرحمن بن ابي بكر، جلال الدين السيوطي (سن وفات: 911ھ) نے خصائص الکبری میں باقاعدہ اس پر عنوان قائم کر کے ثابت کیا کہ تمام انبیا اور ان کے امتی ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کے امتی ہیں:
فائدۃ في أنّ رسالۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم عامۃ لجمیع الخلق و الأنبیاء و أممہم کلہم من أمتہ،
ترجمہ: فائدہ اس بارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کی رسالت تمام مخلوق کو عام ہے اور انبیائے کرام علی نبینا و علیہم الصلوۃ و السلام اور ان کی امتیں، سب حضور صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کے امتی ہیں۔ (الخصائص الكبرى، ج 1، ص 8، دار الكتب العلمية)
سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن آیہ کریمہ
وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ
کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: امام علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک نفیس رسالہ التعظیم والمنہ فی لتؤمنن بہ و لتنصرنہ لکھا۔ اوراس میں آیت مذکورہ سے ثابت فرمایا کہ ہمارے حضور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ سب انبیاء کے نبی ہیں، اور تمام انبیاء و مرسلین اور ان کی امتیں سب حضور کے امتی۔ حضور کی نبوت و رسالت زمانہ سیدنا ابوالبشر علیہ الصلٰوۃ و السلام سے روز قیامت تک جمیع خلق اللہ کو شامل ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 30، ص 130 تا 138، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
خلیفہ اعلی حضرت، صدر شریعت، بدر طریقت، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ اپنی تصنیف جلیل بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں: سب سے پہلے مرتبہ نبوّت حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو ملا۔ روزِ میثاق تمام انبیا سے حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لانے اور حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا اور اِسی شرط پر یہ منصبِ اعظم اُن کو دیا گیا۔ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نبی الانبیا ہیں اور تمام انبیا حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے اُمّتی، سب نے اپنے اپنے عہدِ کریم میں حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیابت میں کام کیا، اللہ عزوجل نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اپنی ذات کا مظہر بنایا اور حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے نُور سے تمام عالَم کو منوّر فرمایا۔ (بہار شریعت، ج 1، ص 86، مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3558
تاریخ اجراء: 13 شعبان المعظم 1446ھ / 12 فروری 2025ء