دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ آیت الکرسی پڑھ کر زور زور سے تالی بجاتے ہیں، اس پر ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ جہاں تک تالی کی آواز جائے گی، وہاں تک شیطان اور چور ڈاکوؤں سے حفاظت رہے گی، اس کی کیا حقیقت ہے؟
یہ ان لوگوں کا غلط نظریہ ہے، شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، عام صورت میں بھی تالی نہیں بجانی چاہیے، پھر آیت الکرسی پڑھنے کے بعد تالی بجانا اور زیادہ برا کام ہے۔ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے مال پر، خود پر، اور اپنے ارد گرد چاروں طرف دم کر دیا کریں، ان شاء اللہ تعالی شیطان سے حفاظت ہوگی۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ)
ترجمہ کنز الایمان: اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا۔ (القرآن، سورۃ الانفال، پارہ9، آیت:35)
مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ کفار ِقریش ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور ان کا یہ فعل یا تو اس باطل عقیدے کی وجہ سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت کی وجہ سے کہ اُن کے اِس شور سے تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں پریشانی ہو۔" (صراط الجنان، جلد3، صفحہ554، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4628
تاریخ اجراء: 19رجب المرجب1447ھ/09جنوری2026ء