بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد نے گھر میں چوری کے پانی کا کنکشن لگایا ہوا ہے، جس سے ہمارے گھر میں پینے کا پانی آتا ہے، جب میں چھوٹی تھی تو مجھے معلوم نہیں تھا، اب بڑی ہونے کے بعد جب مجھے معلوم ہوا ہے، تو میں نے اپنے والد کوکہا ہے کہ یہ چوری کا کنکشن ہٹا کر صحیح کنکشن لگائیں، مگر میرے بہت منع کرنے کے باوجود بھی میرے والد نہیں مان رہے ہیں، اب ایسی صورت میں کہ جب میرے گھر میں پینے کے پانی کا کوئی اور انتظام نہیں ہے اور مجھے مجبوری میں وہ پانی پینا پڑتا ہے، تو کیا اس صورت میں مجھ پر بھی گناہ ہوگا؟
صورت مسئولہ میں آپ کے لیے اس پانی کا استعمال شرعاً حرام نہیں، کیونکہ پانی ایک قدرتی وسیلہ ہے جس میں عام عوام کا مشترکہ حق ہوتا ہے، البتہ گورنمنٹ کی طرف سے چونکہ عوام کو قانونی طریقہ سے پانی کے استعمال کا پابند کیا جاتا ہے تاکہ ایک منظم اور منصفانہ طریقے سے پانی کو استعمال کیا جاسکے اور عوام تک پانی پہنچانے میں ہونے والے اخراجات کو عوام سے ماہانہ طور پر وصول کیا جاسکے، لہذا غیر قانونی طریقے سے پانی کا یہ حصول خلافِ قانون ہونے کی وجہ سے شرعاً بھی ناجائز و گناہ ہوگا، کیونکہ اس میں پکڑے جانے پر اپنے آپ کو ذلت و رسوائی پر پیش کرنا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے، مگر ظاہر ہے کہ قانونی طریقے سے پانی کا حاصل کرنا گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، لہذا آپ پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ آپ کو چاہئے کہ آپ اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق والد صاحب کو موقع بہ موقع سمجھاتی رہیں اور اس خلاف قانون کام سے باز آنے کی درخواست کرتی رہیں۔
غیر قانونی کام کا ارتکاب شرعاً بھی ناجائز ہے، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: کسی ایسےامرکا ارتکاب جو قانوناً، ناجائز ہو اورجرم کی حد تک پہنچے شرعاً بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لیے جرمِ قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعاً بھی روا نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 192، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ازالہ منکر پر قدرت نہ ہو تو زبان سے منع کردے اور اس میں بھی فتنہ و فساد ہو تو دل سے بُرا جانے، پھر اُن کے فعل کا اس سے مطالبہ نہیں،
قال اللہ تعالٰی وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى
(کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ت)
و قال اللہ تعالٰی یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ- لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ
اے اہل ایمان! تم پر اپنی جان لازم ہے تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔
و قال صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم: من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ، و ذلک اضعف الایمان
تم میں سے جب کوئی بُرائی دیکھے، تو ہاتھ سے اُسے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے منع کرے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو، تو دل سے بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 406، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-551
تاریخ اجراء: 20 ربيع الاول 1446ھ / 25 ستمبر 2024ء