logo logo
AI Search

گندے پانی کی مچھلی کھا سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گندے پانی کی مچھلی کھانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بعض مچھلیاں گندے پانی میں پرورش پاتی ہیں، حتی کہ بسا اوقات گندے نالے میں بھی مچھلیا ں پائی جاتی ہیں جنہیں بعض لوگ پکڑ لیتے ہیں اور کھانے میں استعمال کرتے ہیں، کیا ایسی مچھلیاں کھانا جائز ہے؟

جواب

مچھلی کا کھانا حلال ہے، اگرچہ مچھلی گندے پانی میں رہتی ہو اور اسی میں بڑی ہوئی ہو، تو ایسی مچھلی سے بدبو آنے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ مچھلی کی اپنی بھی ایک بو ہوتی ہے جوکبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی ہے اور اسی بو کی وجہ سے بہت سے لوگ مچھلی کم کھاتے ہیں، اگر ایسی فطری بو ہے تو اس کے ہوتے ہوئے کھانے میں حرج نہیں۔ دوسری بو وہ ہے جو نجاست میں پلنے، بڑھنے کی وجہ سے اضافی طور پر پیدا ہو، یہ صورت ممانعت والی ہے اور ایسی مچھلی بھی جلالہ جانور کے حکم میں ہے جس کی بدبو اگر کسی طرح حقیقتاً ختم ہوجائے تو اس کا گوشت کھایا جاسکتا ہے ورنہ اس کا گوشت کھانا ممنوع ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں گندے پانی سے نکالنے کے بعد اگر ان مچھلیوں میں بدبو نہیں تو ان کا کھانا جائز ہے، اور اگر ان کے گوشت سے بدبو آرہی ہے تو ان کا کھانا مکروہ تحریمی و ناجائز ہے۔

گندے پانی میں پرورش پانے والی مچھلی فی نفسہ حلال ہے اگر چہ وہ نجس غذا کھا تی ہو، جیساکہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے:

(و لا) يحل (حيوان مائي إلا السمك) الذي مات بآفة و لو متولدا في ماء نجس

ترجمہ: پانی میں رہنے والے جانوروں میں سے صرف مچھلی کھانا جائز ہے، اگرچہ نجس پانی میں پیدا ہوئی ہو، جبکہ کسی سبب سے مرگئی ہو۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے:

فلا بأس بأكلها للحال لحله بالنص وكونه يتغذى بالنجاسة لا يمنع حله

ترجمہ: ایسی مچھلی کو اسی وقت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس کی حلت نص سے ثابت ہے اور اس کا نجاست کھانا اس کی حلت سے مانع نہیں۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 6، صفحہ 306، طبع: بیروت)

نیز فتاوی بزازیہ، فتاوی تاتارخانیہ، اشباہ وغیرہ میں ہے:

اللفظ للاخیر:  أرسلت السمكة في الماء النجس فكبرت فيه، لا بأس بأكلها للحال

ترجمہ: مچھلی نجس پانی میں چھوڑ دی اور اسی پانی میں بڑی ہوئی تو اس مچھلی کو اسی وقت کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ گندےپانی سے نکالنے کے بعداگر اس کے ظاہر پر نجاست ہو تو اسے دھونا واجب ہے تاکہ اس کا ظاہر نجاست سے پاک ہوجائے، چنانچہ اس کے تحت شرح حموی میں ہے:

وظاهره أنه يجب غسل ظاهرها لما عليه من النجاسة

ترجمہ: اور ظاہر ہے کہ اس کے تمام ظاہری حصہ کو دھونا ہوگا کہ اس میں نجاست لگنے کا احتمال ہے۔(الاشباہ و النظائر و غمزعیون البصائر، جلد 3، صفحہ 229، طبع: بیروت)

یونہی اگر ظاہری نجاست دھونے کے باوجود مچھلی کے گوشت سے فطری بو کے علاوہ اضافی بدبو آئے تو اس کا حکم جلالہ کا ہے جس کا کھانا مکروہ ہے، چنانچہ جلالہ جانور کی وضاحت کے متعلق الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

قال محمد: إذا أنتن وتغير ووجد منه رائحة منتنة فهي جلالة لا يؤكل لحمها

ترجمہ: امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا: اگر کسی جانور کے گوشت میں تغیر ہوجائے اور اس سے گندی بو آنے لگے تو اس جانور کو جلالہ کہتے ہیں، اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 5، صفحہ 16، طبع: بیروت)

اس کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ شمس الائمہ سرخسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

يكون لحمها منتنا فحرم الأكل؛ لأنه من الخبائث، و العمل عليها لتأذي الناس بنتنها

ترجمہ: جلالہ جانور کا گوشت بدبودار ہوجاتا ہے، لہذا اس کا کھانا جائز نہیں، کہ خبائث میں سے ہے اور اسی قول پر عمل ہے کیونکہ لوگوں کو اس کی بدبو سے اذیت ہوتی ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 11،صفحہ 155، طبع: بیروت)

اور بدبودار مچھلی کے اس حکم میں ہونے کے متعلق، تفصیل یہ ہے کہ اولًا علامہ شرنبلالی نے اس بارے میں توقف کیا اور مزید تحقیق کا اشارہ فرمایا، لکھتے ہیں:

و لو أرسلت السمكة في الماء النجس فكبرت فيه لا بأس بأكلها للحال كذا في البزازية، و ينظر الفرق بينها و بين الجلالة

یعنی مچھلی نجس پانی میں چھوڑ دی اور اسی پانی میں بڑی ہوئی تو اس مچھلی کو اسی وقت کھانے میں کوئی حرج نہیں ، اور مچھلی اور جلالہ جانور میں فرق تلاش کیا جائے۔ (حاشیۃ الشرنبلالی علی درر الحکام، جلد 1، صفحہ 281، طبع:بیروت)

اس پر علامہ شامی نے فرمایا کہ اگر نجاست سے آلودہ ہونے کے سبب اس مچھلی سے غیر فطری بو آرہی ہو تو یہ بلاشبہ حکم جلالہ میں ہوگی، اور فقہائے کرام نے نجس پانی میں پلنے، بڑھنے والی مچھلی کے حلال ہونے کا جو حکم فرمایا ہے وہ اس صورت پر محمول ہے کہ نجس پانی میں رہنے کے سبب مچھلی میں غیر فطری اضافی بو نہ ہوئی ہو، چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

في مختصر المحيط: ولا تكره الدجاجة المخلاة و إن أكلت النجاسة يعني إذا لم تنتن بها لما تقدم لأنها تخلط ولا يتغير لحمها وحبسها أياما تنزيه شرنبلالي على الوهبانية، و به يحصل الجواب عن قوله في حاشية الدرر، و ينظر الفرق بين السمكة وبين الجلالة ، بأن تحمل السمكة على ما إذا لم تنتن و يراد بالجلالة المنتنة

ترجمہ: مختصر المحیط میں ہے: اور آوارہ مرغی کھانا جائز ہے اگرچہ وہ نجاست کھاتی ہو، یعنی جبکہ اس کے گوشت میں بدبو نہ ہوئی ہو جیساکہ پہلے گزرا، کیونکہ وہ مخلوط غذا کھاتی ہے، اور اس کے گوشت میں تغیر بھی نہیں ہوتا، ہاں! اس کو چند دن باندھے رکھنا بہتر ہے، شرنبلالی علی الوہبانیہ، اور اس کے ذریعے ان کے درر الحکام کے حاشیے میں موجود قول کہ مچھلی اور جلالہ میں فرق دیکھا جائے کا جواب بھی مل گیا، کہ مچھلی کے حلال ہونے والا مسئلہ اس بات پر محمول ہے کہ مچھلی میں بدبو نہ ہوئی ہو جبکہ جلالہ وہ ہے جس میں بدبو ہو۔ (رد المحتار، جلد 6، صفحہ 306، طبع: بیروت)

اسی طرح امام اجل علامہ سغدی علیہ الرحمۃ نے بھی بدبودار مچھلی کھانےسے صریح ممانعت فرمائی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ شامی نے جو بدبو دار مچھلی کو جلالہ کے حکم شامل کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ چنانچہ النتف فی الفتاوی میں ہے:

و يكره من السمك الطافي و المنتن

ترجمہ: طافی (جو خود بخود بغیرکسی سبب ظاہر کے دریا میں مرکر پانی کی سطح پرالٹ گئی) اور بدبودار مچھلی کھانا مکروہ ہے۔ (النتف فی الفتاوی، جلد 2، صفحہ 810، طبع: بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0680
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاخری 1447ھ / 28 نومبر 2025 ء