logo logo
AI Search

Larki Ko Quran Kareem Ke Saye Mein Rukhsat Karna Kaisa ?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رخصتی کے وقت دولہن کے سر پر قرآن کا سایہ کرنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شادیوں کے موقع پر لڑکی کی رخصتی کے وقت یہ صورت دیکھنے میں آتی ہے کہ لڑکی کے سر پر قرآن پاک اٹھا کر اسے قرآن کے سائے میں رخصت کیا جاتا ہے، یہ عمل از روئے شرع درست ہے یا نہیں؟

جواب

قرآن پاک بے شمار فوائد و برکات کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ جس طرح اس کا پڑھنا، یاد کرنا، سننا، اس پر عمل کرنا اور اس میں غور و فکر کرنا حصول خیر و برکت کا سبب ہے، یونہی قرآن پاک کا اوراق پر مشتمل نسخہ بھی رحمت و برکت کا ذریعہ ہے، لہٰذا اس سے برکت حاصل کرنا جائز و مستحب عمل ہے۔ رخصتی کے وقت دلہن کے سر پر قرآن پاک اٹھا کر رخصت کرنے سے بھی یہی مقصود ہوتا ہے کہ اس عمل سے قرآن پاک کی برکت حاصل ہوجائے، لہٰذا مذکورہ نیت سے یہ عمل جائز و باعث ثواب ہوگا، مگر اس کے ساتھ چند امور ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

(1)مذکورہ صورت میں باوضو شخص قرآن پاک کو پکڑے یا پھر بے وضو ہونے کی صورت میں کسی جداگانہ کپڑے یا غلاف میں پکڑے، کیونکہ بے وضوشخص کا قرآن پاک کو چھونا، جائز نہیں۔

(2)چونکہ مذکورہ عمل کے ذریعے قرآن پاک سے برکت حاصل کرنا مقصود ہے، لہذا اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ گانے باجے یا آتش بازی وغیرہ امور ممنوعہ کی کوئی صورت نہ ہو کیونکہ ایک تو یہ قرآن مجید کی بے ادبی ہے اور دوسرا یہ بات ہرگز درست نہیں کہ ایک طرف قرآن کریم سے برکت لی جارہی ہو اور دوسری جانب قرآن کریم کے احکام کی ہی نافرمانی کی جائے۔ یوں تو قرآن کریم پاس نہ ہو، اس وقت بھی ان گناہوں سے بچنا ضروری ہے، مگر قرآن کی موجودگی میں اس کی عظمت و اہمیت کے پیش نظر خاص طور پر ان سے بچنا ضروری ہوجائے گا۔

اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

”وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ-وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ“

ترجمہ کنز العرفان: اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس لئے (اتری) تاکہ تم اس کے ذریعے مرکزی شہر اور اس کے اردگرد والوں کو ڈر سناؤ اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں وہی اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ (پارہ 07، انعام: 92)

سورہ انعام کے ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

”وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ“

ترجمہ کنز العرفان: اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگار بنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (پارہ 08، انعام: 155)

سنن دارمی میں ہے:

”أن عكرمة بن أبي جهل، كان يضع المصحف على وجهه ويقول: كتاب ربي، كتاب ربي“

صحابی رسول، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ قرآن پاک کو اپنے چہرے پر رکھتے اور فرماتے: میرے رب کی کتاب، میرے رب کی کتاب۔ (مسند دارمی، ج 04، ص 2109، رقم: 3393، مطبوعہ سعودیہ)

مذکورہ مسئلہ کی نظیر: اگر کسی شخص نے گھر میں خیر و برکت کی نیت سے قرآن پاک رکھا ہو، لیکن شامت اعمال کی وجہ سے اسے پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی، اس کے باوجود وہ گھر میں خیر و برکت کی نیت سے قرآن پاک رکھنے کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوگا۔

چنانچہ فتاوی قاضی خان، حاشیۃ الشرنبلالیہ، فتاوی ہندیہ اور الاشباہ والنظائر میں ہے،

واللفظ للھندیۃ: ”رجل أمسك المصحف في بيته، ولا يقرأ قالوا: إن نوى به الخير والبركة لا يأثم بل يرجى له الثواب“

کسی شخص نے گھر میں قرآن پاک رکھا ہو، لیکن وہ پڑھتا نہیں، تو فقہاء فرماتے ہیں: اگر اس کی نیت قرآن سے خیر و برکت کی ہے، تو گناہگار نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لئے ثواب کے حصول کی امید ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 05، ص396 ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ عبارت کے تحت غمز عیون البصائر میں ہے:

”لأن المصحف من شأنه أن يتبرك به“

کیونکہ قرآن پاک کی یہ شان ہے کہ اس سے برکت حاصل کی جائے۔ (غمز عیون البصائر، ج 01، ص 100، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”کسی نے محض خیرو برکت کے لیے اپنے مکان میں قرآن مجید رکھ چھوڑا ہے اور تلاوت نہیں کرتا تو گناہ نہیں بلکہ اس کی یہ نیت باعث ثواب ہے۔“ (بہار شریعت، ج 03، ص 495، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0303
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم 1445ھ/ 22 فروری 2024ء