logo logo
AI Search

دولہے کا نکاح میں سرخ رنگ کا عمامہ پہننا کیسا؟

مردکےلیے سرخ رنگ کا عمامہ شریف پہننے کاحکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارا سوال یہ ہے کہ نکاح کے دن دولہے کو سرخ عمامہ شریف باندھتے ہیں۔ یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

دولہے کے لیے سرخ رنگ کا عمامہ باندھنا جائز ہے جبکہ وہ کُسُم (ایک قسم کا پھول ہےجس سے گہرا سرخ رنگ نکلتا ہے اور اس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں، اس) سے رنگا ہوا نہ ہو کیونکہ مرد کے لیے کسم سے رنگا ہوا سُرخ لباس پہننا، ناجائز و ممنوع ہے، جبکہ خالص کُسُم سے رنگا ہو یا خالص سے تو نہ ہو، بلکہ اس میں اور رنگوں کی بھی آمیزش ہو، مگر غالب کُسُم ہی ہو۔ اوراس کے علاوہ سرخ رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے پہننا اور عمامہ باندھنا جائز ہے، البتہ! بچنا بہتر ہے کیونکہ کسم کے علاوہ خالص سرخ رنگ کا لباس پہننے میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن صحیح و معتمد قول یہی ہے کہ جائز ہے، مگر بچنا بہتر ہے، بالخصوص اس صورت میں جب سرخ رنگ زیادہ شوخ ہو۔

چنانچہ در مختار میں کسم اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑوں کی ممانعت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:

و لا باس بسائر الالوان

 ترجمہ: بقیہ رنگوں کے کپڑے پہننے میں حرج نہیں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 6، ص 358، دار الفکر، بیروت)

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: سرخ اور زرد رنگ کا کپڑا پہننا مرد کو جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے نماز درست ہے یا نہیں؟ اگر پہننا مکروہ ہے، تو اس میں کراہت تنزیہی ہے یا تحریمی؟ بعض احادیث سے حضور سید عالم  صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا سرخ جبہ زیب تن فرمانا ثابت اور زرد ملبوس رنگنا ظاہر۔۔ اور بعض احادیث سے اس کی نہی پیدا و ہو یدا۔۔ معصفر و مزعفر کی کیا تشریح ہے؟

تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’کسم کا رنگا ہوا سرخ اور کیسر کا زرد، جنھیں معصفر ومزعفر کہتے ہیں مرد کو پہننا، ناجائز و ممنوع ہے اور ان سے نماز مکروہ تحریمی، اور ان کے سوا اور رنگت کا زرد بلا کراہت مباح خالص ہے، خصوصا زرد جوتا مورثِ سرور و فرحت۔۔ اور خالص سرخ غیر معصفر میں اضطرابِ اقوال ہے اور صحیح و معتمد جواز، بلکہ علامہ حسن شرنبلالی نے فرمایا: اس کا پہننا مستحب ہے، حق یہ کہ احادیثِ نہی، سرخ معصفر کے بارے میں ہیں۔۔۔ اور احادیثِ جواز، سرخ غیر معصفر میں، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سرخ جوڑا پہننا بیان ِجواز کے لئے ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 194 تا 197 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید ایک مقام پر مرد کے لئے شوخ رنگ پہننے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: اور خالص شوخ رنگ بھی اسے (یعنی مرد کو پہننا) مناسب نہیں۔ حدیث میں ہے:

ایاکم و الحمرۃ فانھا من زی الشیطان

(سرخ رنگ سے بچو، کیونکہ یہ شیطان کی ہیئت و وضع ہے) باقی رنگ فی نفسہ جائز ہیں، کچے ہوں یا پکے۔ ہاں! اگر کوئی کسی عارض کی وجہ سے ممانعت ہوجائے، تو وہ دوسری بات ہے۔ جیسے ماتم کی وجہ سے سیاہ لباس پہننا حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 185، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-3437
تاریخ اجراء:07رجب المرجب1446ھ/07جنوری2024ء