logo logo
AI Search

سونے چاندی کا دانت لگوانا یا کیپ (Cap) چڑھانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سونے چاندی کا دانت لگوانا یا سونے چاندی کا خول چڑھانا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل کے بارے میں کہ

(1) اگر دانت گرجائے تو اس کی جگہ مرد کے لئے سونے کا دانت لگوانا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح دانت خراب ہونے یا ٹوٹنے کی صورت میں سونے سے فلنگ (filling) کروانا یا دانتوں کو رگڑ کر سونےکا خول (Cap) چڑھانا کیسا ہے؟

(2) دانت کی خرابی کی مذکورہ بالا صورتوں میں مرد کے لیےچاندی کا دانت لگوانا یا اس کا خول چڑھانا یا فلنگ کروانا کیسا ہے؟

ضروری وضاحت: دانتوں کےگورنمنٹ اور پرائیوٹ سیکٹر کے چند بڑے بڑے ڈاکٹروں سے اس حوالے سے بات چیت ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ سونے، چاندی کے دانت لگانے یا خول چڑھانے کا سلسلہ کافی عرصے سے ختم ہو چکا ہے۔چاندی کا تو ویسے ہی لوگ نہیں لگواتے اور سونے کا جو لوگ لگاتے ہیں تووہ بطور زینت ہی لگواتے ہیں اور اس پر اچھا خاصہ خرچ آتا ہے اور وہ دانت اسپیشل لیبز(Labs) میں تیار کیے جاتے ہیں جو کہ ہمارے یہاں عام طور پر تیار نہیں ہوتے۔اس لیے لوگ نہیں لگواتے۔اس کی نسبت مصنوعی اور مسالے والے دانت زیادہ خوبصورت، پائیدار، اور کھانے، پینے کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ان کی صفائی کرتے رہیں تو بد بو بھی پیدا نہیں ہوتی ہےبلکہ ان کی صفائی، سونے، چاندی سے آسان ہے۔ باقی جہاں تک سونے چاندی سے فلنگ (دانت بھروانے) کا معاملہ ہے تو سونے سے تو فلنگ نہیں کی جاتی البتہ چاندی (صرف چاندی نہیں ہوتی بلکہ، چاندی، کاپر، ٹن اور زنک کا مرکب ہوتا ہے جس میں غالب چاندی ہوتی ہے)سے فلنگ کی جاتی ہے۔گورنمنٹ ہسپتالوں میں عام طور پر چاندی کے اسی مرکب سے فلنگ کی جاتی ہے کہ دیگر دھاتوں کی نسبت دیر پا ہوتی ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں دونوں آپشن ہوتے ہیں جو چاندی سے کروانا چاہے وہ اس سے کروا لے اور جو مسالے سے کروانا چاہے وہ اس سے کروا لے۔ مسالہ، چاندی کے مرکب سے مہنگا ہوتا ہے نیز مسالہ اس فیلڈ میں نئی چیز ہونے کی وجہ سے سب ڈاکٹر اس کا تجربہ نہیں رکھتے لہذا چاندی کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

جواب

(1-2) فی زمانہ اگر کسی کا دانت گرجائےتو اس کی جگہ بلاضرورت شرعی مرد کے لئے سونے یا چاندی کا دانت لگوانا یونہی دانت خراب ہونے یا ٹوٹنے کی صورت میں دانتوں کو رگڑ کر سونے یا چاندی کاخول (Cap) چڑھانا، یا سونے سے فلنگ (Filling) کروانا، ناجائز ہے۔ البتہ چاندی سے فلنگ کروانا جائز ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ فقہائے احناف کے نزدیک اگر کسی شخص کا دانت گر جائے تو اس کی جگہ چاندی کا دانت لگوانا یونہی ہلتے دانت کو چاندی کے تار سے باندھنا جائز ہے جبکہ گرے ہوئے دانت کی جگہ سونے کا دانت لگوانا یا سونے کے تار سے باندھنا امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک نا جائز ہے۔ اور امام محمد رضی اللہ عنہ کے نزدیک جائز ہے۔

کتب فقہ میں مذکورہ مسئلے کی علت دیکھنے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ مذکورہ صورت میں  ہمارے فقہاء کا چاندی کے دانت لگوانے یا چاندی کے تار بندھوانے کی اجازت دینا یونہی امام محمد رضی اللہ عنہ کا سونے کے دانت لگوانے یا سونے کے تار سے بندھوانے کی اجازت دینا حاجت و ضرورت کی وجہ سے تھا کیونکہ شرعی اصول یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے استعمال میں اصل حرمت ہے اور مردوں پر سونے، چاندی کے استعمال کے جواز کی چند استثنائی صورتوں (مثلاً چاندی کی مخصوص شرائط کی انگوٹھی یا سونے کا بطور تابع استعمال ہو جیسے قمیض کا بٹن، اس) کے علاوہ  سونے اور چاندی کا استعمال حرام ہے (سونے، چاندی کے دانت لگوانا، ان استثنائی صورتوں میں شامل نہیں ہے) البتہ اگر کوئی ایسی حاجت و ضرورت ہو جو سونے کے علاوہ، چاندی وغیرہ کسی دوسری دھات سے پوری نہ ہوتی ہو تو وہاں سونے کا استعمال جائز ہوگا اور اگر وہ حاجت چاندی سے پوری ہو جائے تو اس جگہ سونے کا استعمال حرام جبکہ چاندی کا استعمال جائز ہوگا کیونکہ سونے کی حرمت چاندی کی حرمت سے سخت ہے جبکہ چاندی کی حرمت بنسبت سونے کی حرمت کے کم ہے اور اگر وہ حاجت سونے چاندی کے علاوہ کسی دوسری دھات مثلاً ایلومینیم، پتھر، مسالہ، وغیرہ سے پوری ہو جائے تو اب اس جگہ سونے اور چاندی دونوں کا استعمال ناجائز ہوگا کیونکہ اس صورت میں سونے چاندی کا استعمال بلاضرورت پایا جائے گا اور ان کا بلا ضرورت استعمال حرام ہے لہذا مذکورہ مسئلے میں جب یہ ضرورت صرف چاندی سے ہی پوری ہو جاتی ہے تو امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک سونے کا استعمال بلا حاجت ہوگا جو کہ حرام ہے لہذا انھوں نے سونے کو ناجائز قرار دیا جبکہ امام محمد کے نزدیک چاندی میں چونکہ بدبو پیدا ہوجاتی ہے اور سونے میں بدبو پیدا نہیں ہوتی لہذا بدبو سے بچنے کے لیے سونے کا دانت لگوانے کی حاجت ہے لہذا انھوں نے یہاں سونے کو جائز قرار دیا۔ حاصل کلام یہ ہے جو فقہاء صرف چاندی کی اجازت دے رہے ہیں وہ بھی اور جو سونے کی اجازت دے رہے ہیں وہ بھی بنیاد حاجت و ضرورت پر ہی رکھتے ہیں۔

اور فی زمانہ جب پتھر، مسالے وغیرہ سے بنے ہوئے مصنوعی دانت اور مصنوعی خول سونے، چاندی سے بنے ہوئے دانتوں اور خول سے زیادہ خوبصورت، پائیدار، اور کھانے، پینے کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں اور ان میں اتنی بدبو بھی پیدا نہیں ہوتی کہ صاف کرنے سے بھی نہ جائے بلکہ ان کی صفائی سونے، چاندی کے دانتوں سے بھی آسان ہے تو پھر سونے، چاندی کے دانتوں کی حاجت و ضرورت باقی نہ رہی اور بلا حاجت و ضرورت  شریعت مطہرہ کی طرف سے مستثنی کیے گئے مقامات کے علاوہ بقیہ جگہ سونے، چاندی کا استعمال حرام ہے لہذا سونے، چاندی کے دانت لگوانا یا ان کا خول چڑھانا  ناجائز ہے البتہ چونکہ چاندی کی فلنگ اچھی، دیر پا، اور مسالے سے سستی بھی ہے اور ہمارے یہاں کے ڈاکٹر اس کا تجربہ بھی رکھتے ہیں تو چاندی سے فلنگ  کروانے کی حاجت و ضرورت باقی ہونے کی وجہ سے یہ جائز ہے لہذا اس کی اجازت ہے۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک ہلتے دانت کو چاندی سے باندھنا جائز ہے سونے سے باندھنا جائز نہیں ہے جبکہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سونے سے باندھنا بھی جائز ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در المختار میں ہے ”(ولا يشد سنه) المتحرك (بذهب بل بفضة) وجوزهما محمد (ويتخذ أنفا منه) لأن الفضة تنتنه“ ترجمہ: اور کوئی شخص اپنے ہلتے ہوئے دانت کو سونے کے ساتھ نہ باندھے بلکہ چاندی کے ساتھ باندھے اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں سے باندھنا جائز قرار دیا ہے اور سونے کی ناک لگواسکتا ہے کیونکہ چاندی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ (تنویر الابصار مع درالمختار، کتاب الکراہیۃ، فصل فی اللبس، جلد 6، صفحہ 362، مطبوعہ بیروت)

اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”(قوله وجوزهما محمد) أي جوز الذهب والفضة أي جوز الشد بهما وأما أبو يوسف فقيل معه وقيل مع الإمام (قوله لأن الفضة تنتنه) وأشار إلى الفرق للإمام بين شد السن، واتخاذ الأنف فجوز الأنف من الذهب لضرورة نتن الفضة لأن المحرم لا يباح إلا لضرورة وقد اندفعت في السن بالفضة فلا حاجة إلى الأعلى وهو الذهب“

 ترجمہ: مصنف کا قول: اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کو جائز قرار دیا ہے یعنی سونے اور چاندی دونوں کو جائز قرار دیا ہے یعنی ہلتے دانت کو سونے اور چاندی دونوں سے باندھنا جائز ہے۔ اور بہرحال امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ تو ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس مسئلے میں وہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہیں۔ اور مصنف کا قول کہ چاندی بدبودار ہو جاتی ہے۔ اور مصنف نے امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک سونے سے دانت کو باندھنے اور سونے کی ناک لگوانے کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے سونے کی ناک لگوانے کی جائز قرار دیا ہے، چاندی کے بدبودار ہو جانے کی ضرورت کی وجہ سے کیونکہ حرام چیزوں کا استعمال جائز نہیں ہوتا مگر ضرورت کی وجہ سے اور دانت میں وہ ضرورت چاندی سے ہی پوری ہو گئی تو اس سے اعلی اور وہ سونا ہے اس کی طرف جانے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ (رد المحتار، کتاب الکراہیۃ، فصل فی اللبس، جلد 6، صفحہ 362، مطبوعہ بیروت)

عند الشرع سونے اور چاندی کے استعمال میں اصل حرمت ہے تاہم سونے کی حرمت چاندی کی حرمت سے سخت ہے جبکہ چاندی کی حرمت بنسبت سونے کی حرمت کے کم ہے اور سونے کا ایسا استعمال جو بطور زینت ہو وہ مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہے اور سونے کا ایسا استعمال جو زینت سے ہٹ کر محض بدن کی منفعت کے لیے ہو وہ مرد و عورت دونوں کے لیے حرام ہے۔ اور شریعت مطہرہ نے جس جگہ سونے، چاندی کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے، ان کے علاوہ  مردوں پر سونے اور چاندی کا استعمال بلاضرورت شرعی حرام ہے چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے

”(ومنها) الذهب لأن النبي عليه الصلاة والسلام جمع بين الذهب وبين الحرير في التحريم على الذكور بقوله عليه الصلاة والسلام ”هذان حرامان على ذكور أمتي“ فيكره للرجل التزين بالذهب كالتختم ونحوه ولا يكره للمرأة لقوله عليه الصلاة والسلام «حل لإناثها»۔۔والأصل أن استعمال الذهب فيما يرجع إلى التزين مكروه في حق الرجل دون المرأة لما قلنا واستعماله فيما ترجع منفعته إلى البدن مكروه في حق الرجل والمرأة جميعا حتى يكره الأكل والشرب والأدهان والتطيب من مجامر الذهب للرجل والمرأة ۔۔ ومعلوم أن الذهب أشد حرمة من الفضة ألا يرى أنه رخص عليه الصلاة والسلام التختم بالفضة للرجال ولا رخصة في الذهب أصلا۔۔۔(وأما) شد السن المتحرك بالذهب فقد ذكر الكرخي رحمه اللہ أنه يجوز ولم يذكر خلافا وذكر في الجامع الصغير أنه يكره عند أبي حنيفة وعند محمد رحمهما اللہ لا يكره ولو شدها بالفضة لا يكره بالإجماع وكذا لو جدع أنفه فاتخذ أنفا من ذهب لا يكره بالاتفاق لأن الأنف ينتن بالفضة فلا بد من اتخاذه من ذهب فكان فيه ضرورة فسقط اعتبار حرمته.۔۔۔ وحجة ما ذكر أبو حنيفة رضي اللہ عنه في الجامع إطلاق التحريم من غير فصل ولا يرخص مباشرة المحرم إلا لضرورة وهي تندفع بالأدنى وهو الفضة فبقي الذهب على أصل التحريم۔۔۔(ومنها) الفضة لأن النص الوارد بتحريم الذهب على الرجال يكون واردا بتحريم الفضة دلالة فيكره للرجال استعمالها في جميع ما يكره استعمال الذهب فيه إلا التختم به إذا ضرب على صيغة ما يلبسه الرجال ولا يزيد على المثقال لما روينا من حديث النعمان بن بشير - رضي اللہ عنهما۔۔وما لا يكره استعمال الذهب فيه لا يكره استعمال الفضة من طريق الأولى لأنها أخف حرمة من الذهب ملتقطاً“

 ترجمہ: اور مردوں پر ان (حرام کردہ اشیاء) میں سے سونا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مردوں پر سونا اور ریشم حرام کرنے میں ان دونوں کو جمع فرمایا ہے اپنے اس قول کے ساتھ کہ ”یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں“ پس مردوں کے لیے سونے سے زینت حاصل کرنا مکروہ ہے جیسے انگوٹھی اور اس کی مثل دیگر اشیاء اور عورت کے لیے مکروہ نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ ”میری امت کی عورتوں کے لیے حلال ہے“۔۔اور اصل یہ ہے کہ سونے کا ایسا استعمال کرنا جو زینت اختیار کرنے کی طرف لوٹے، وہ مردوں کے حق میں مکروہ ہے اور عورتوں کے حق میں مکروہ نہیں ہے اس وجہ سے جو ہم نے کہا اور اس کا ایسا استعمال جو بدن کی منفعت کی طرف لوٹے، مرد و عورت دونوں کے لیے مکروہ ہے حتی کہ سونے کے برتن میں کھانا، پینا، اور تیل لگانا، سونے کی انگیٹھی سےخوشبو سلگانا مرد و عورت دونوں کے لیے مکروہ ہے۔۔اور یہ بھی معلوم ہے کہ سونے کی حرمت چاندی کی حرمت سے زیادہ سخت ہے۔کیا نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی کی رخصت دی ہے حالانکہ  سونے میں اصلاً کوئی رخصت نہیں دی۔ اور بہرحال ہلتے دانت کو سونے سے باندھنے کے متعلق امام کرخی نے ذکر کیا کہ وہ جائز ہے اور کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا اور جامع الصغیر میں ہے کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک مکروہ ہے اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور اگر چاندی سے باندھا تو بالاجماع مکروہ نہیں ہے۔ اور اسی طرح کسی کی ناک کٹ گئی تو اس نے سونے کی ناک لگوا لی تو یہ بالاتفاق مکروہ نہیں ہے کیونکہ چاندی کی ناک بدبودار ہو جاتی ہے تو ضروری ہے کہ وہ سونے کی بنوائی جائے پس اس میں ضرورت ہے اور (اس ضرورت کی وجہ سے) حرمت کا اعتبار ساقط ہو گیا۔ اور امام اعظم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جامع الصغیر میں جو مسئلہ مذکور ہوا اس کی دلیل یہ ہے کہ سونے، چاندی کی حرمت بغیر کسی تفصیل کے مطلق ہے اور حرام کام کی رخصت نہیں دی جاتی مگر ضرورت کی وجہ سے اور وہ ادنی سے ہی پوری ہوگئی ہے اور وہ (ادنی) چاندی ہے پس سونا اپنی اصل حرمت پر برقرار رہا۔ اور مردوں پر ان حرام کردہ چیزوں میں سے چاندی بھی ہے کیونکہ جو نص مردوں پر سونا حرام کرنے کے لیے وارد ہے وہی چاندی کو حرام کرنے میں بھی وارد ہے دلالۃً پس مردوں کے لیے ہر وہ جگہ جہاں سونا استعمال کرنا حرام ہے، وہاں چاندی کا استعمال بھی حرام ہے مگر چاندی کی انگوٹھی  کی اجازت ہے جبکہ وہ مردانی وضع پر بنائی گئی ہو اور ایک مثقال سے زیادہ نہ ہو، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ اور جس جگہ سونا استعمال کرنا مکروہ نہیں ہے وہاں چاندی کا استعمال کرنا بدرجہ اولی مکروہ نہیں ہے کیونکہ اس کی حرمت سونے کی حرمت سے اخف ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاستحسان، جلد 5، صفحہ 132، مطبوعہ بیروت)

تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: ”قال رحمه اللہ: (وشد السن بالفضة) أي يحل شد السن المتحرك بالفضة، ولا يحل بالذهب، وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد رحمه اللہ: يحل بالذهب أيضا، وهو رواية عنهما لما روي أن «عرفجة بن أسعد أصيب أنفه يوم كلاب فاتخذ أنفا من فضة فأنتن فأمره النبي - صلى اللہ عليه وسلم - أن يتخذ أنفا من ذهب»؛ و لأن الفضة والذهب من جنس واحد والأصل الحرمة فيهما فإذا حل التضبيب بأحدهما حل بالآخر. ووجه المذكور هنا أن استعمالهما حرام إلا للضرورة، وقد زالت بالأدنى، وهو الفضة فلا حاجة إلى الأعلى فبقي على الأصل، وهو الحرمة والضرورة فيما روي لم تندفع بالفضة حيث أنتنت؛ ولأن كلامنا في السن والمروي في الأنف فلا يلزم من عدم الإغناء في الأنف عدم الإغناء في السن ألا ترى أن التختم جاز لأجل الختم ثم لما، وقع الاستغناء بالأدنى لا يصار إلى الأعلى، ولا يجوز قياسه على الأنف فكذا هنا، ويحتمل أنه - عليه الصلاة والسلام خص عرفجة بذلك كما خص الزبير بن العوام، وعبد الرحمن بن عوف بلبس الحرير لأجل الحكة في جسمهما“

 ترجمہ: صاحبِ کنز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اور دانت کو چاندی سے باندھنا یعنی ہلتے دانت کو چاندی سے باندھنا حلال ہے اور سونے سے باندھنا حلال نہیں ہے اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ و امام ابو یوسف رضی اللہ عنھما کے نزدیک ہے اور امام محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سونے سے باندھنا بھی جائز ہے اور یہی شیخین سے بھی مروی ہے، اس حدیث کی وجہ سے جو روایت کی گئی ہے کہ عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک یوم کلاب (کی جنگ) کے دن کٹ گئی تھی پس انھوں نے چاندی کی ناک لگوالی تو وہ بدبودار ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک لگوا لیں“ کیونکہ چاندی اور سونا ایک ہی جنس ہیں اور ان دونوں میں اصل حرمت ہے پس جب ایک سے (دانتوں کا) خول چڑھانا حلال ہوگا تو دوسرے سے  بھی حلال ہوگا اور یہاں مذکورہ مسئلہ کی دلیل یہ ہے کہ سونے، چاندی کا استعمال حرام ہے سوائے ضرورت کے اور وہ ضرورت ادنی کے ساتھ ہی پوری ہوگئی اور وہ چاندی ہے پس اعلی کی طرف جانے کی حاجت نہیں تو وہ اپنی اصل پر برقرار رہا اور وہ (اصل اس کی) حرمت ہے۔ جو (حضرت عرفجہ والی حدیث) روایت کی گئی ہے، اس میں ضرورت چاندی کے ساتھ پوری نہیں ہوتی، اس حیثیت سے کہ چاندی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کیونکہ ہمارا کلام دانت میں ہے جبکہ روایت کردہ حدیث ناک کے متعلق ہے پس نا ک میں سونے سے مستغنی نہ ہونے سے دانت میں مستغنی نہ ہونا لازم نہیں آتا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ انگوٹھی پہننا جائز ہے مہر لگانے کی (ضرورت کی) وجہ سے پھر جب ادنی کے ذریعے ہی مستغنی ہو گئے (ضرورت پوری ہوگئی) تو اعلی (سونے) کی نہیں بنائی جائے گی۔ اور دانت کا ناک پر قیاس جائز نہیں ہے۔ (تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق، فصل فی اللبس، جلد 6، صفحہ 16، مطبوعہ بیروت) 

جن فقہاء نے سونے کے دانت یا ناک لگوانے کی اجازت دی ہے، وہ بھی حاجت و ضرورت کی وجہ سے ہے چنانچہ بہار شریعت میں ہے: ”ہلتے ہوئے دانتوں کو سونے کے تار سے بندھوانا جائز ہے اور اگر کسی کی ناک کٹ گئی ہو تو سونے کی ناک بنوا کر لگا سکتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ضرورت کی وجہ سے سونے کو جائز کہا گیا، کیونکہ چاندی کے تار سے دانت باندھے جائیں یا چاندی کی ناک لگائی جائے تو اس میں تعفن (بدبو) پیدا ہوگا۔ (بھارشریعت جلد 3، حصہ 16، صفحہ428، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدرالشریعہ نے فی زمانہ سونے کے دانت کو حاجت و ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے ناجائز قرار دیا ہے چنانچہ سونے کے دانت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی جواباً ارشاد فرمایا: ”امام اعظم سیدنا ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کا مذہب یہ ہے کہ سونے کا دانت بنوانا جائز نہیں۔ یہ مصنوعی دانت جو پتھر یا مسالے سے بنائے جاتے ہیں کارآمد ہوتے ہیں میں نے خود بہتوں کو دیکھا ہے کہ ان سے اچھی طرح کھاتے ہیں، رہی بدبو، وہ صفائی سے جاتی رہے گی ان میں اتنی بدبو نہیں پیدا ہوتی کہ صاف کرنے سے بھی نہ جائے لہذا ایسی صورت میں سونا استعمال کرنا بلاضرورت ہوا جو ناجائز ہے رد المختارمیں ہے: واذا سقط سنہ فاراد ان یتخذ سنا آخر فعند الامام یتخذ ذالک من الفضۃ فقط وعند محمد من الذھب ایضا۔“ (فتاوی امجدیہ جلد  4صفحہ 106 مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے مردوں کے لیے سونے، چاندی کے دانت کی اجازت اس صورت میں دی ہے جب وہ ضرورت کسی دوسری دھات مثلاً پتھر، مسالہ، ایلومینیم وغیرہ سے پوری نہ ہوتی ہو اور اگر اس حاجت و ضرورت کے لیے سونے کے بغیر چارہ نہ ہو تو سونا جائز ہوگا اور اگر وہ حاجت چاندی سے پوری ہوسکتی ہے تو چاندی جائز اور سونا حرام ہوگا اور اگر وہ حاجت سونے، چاندی دونوں کے علاوہ کسی دوسری دھات سے پوری ہو سکتی ہے تو مردوں کے لیے سونے اور چاندی دونوں کے دانت لگوانا حرام ہوگا اور فی زمانہ جب ان دونوں کے علاوہ دوسری دھات سے حاجت و ضرورت پوری ہو رہی ہے تو ان کا استعمال بلا حاجت ہوا جو کہ حرام ہے چنانچہ فتاوی رضویہ میں سوال ہوا ہےکہ: ”مصنوعی دانت کااستعمال جائز ہے یا نہیں؟ یہ مصنوعی دانت اس طرح بنتے ہیں کہ دانت دیگر ممالک غیر اسلام سے بن کر آتے ہیں مگر اُن کی ترکیب کہ کن کن اجزأ سے بنتے ہیں مجھ کو معلوم نہیں ہے مگر تاہم اب تک میرے علم میں کوئی ایسی چیز ان کی ترکیب میں نہیں آئی ہے جس کے داخل ترکیب ہونے کی وجہ سے ان کو میں حرام یا ناجائز خیال کروں۔ ان دانتوں کو ہندوستانی کاریگر ہر شخص کے منہ اور تالو کی صورت کے مشابہ تالو بناکر اس میں لگادیتے ہیں جو منہ میں لگالیا جاتا ہے اور یہ حقیقت مصنوعی دانتوں کی ہے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ مندرجہ بالا تالُو اگر سونے کا یعنی زر کا ہو یا کسی اور معدنیات کا مثل ایلومینیم کے تو مردوں کے لگانے کے واسطے کہاں تک جائز ہے، ایلومینیم وہ معدنیات میں سے ہے جس کے زمانہ حال میں ہلکی ہلکی دیگچیاں اور ظروف وغیرہ بنتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں کے واسطے اور زر اور ایلومینیم کے واسطے اگر شریعت کا حکم جدا جدا ہے تو مفصل جواب سے مطلع فرمائیے چونکہ ضرورت اشد ہے اس لئے جواب سے جلد مطلع فرمایا جائے۔

حضرت امام ِاہلسنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے جواباً ارشاد فرمایا ہے: ”بنے ہوئے دانت لگانے میں حرج نہیں۔ طاہر قدوس عزّ جلالہ نے ہر چیز اصل میں پاک بنائی ہے جب تک کسی شے میں کسی نجاست کاخلط ثابت نہ ہوپاک ہی مانی جائے گی۔ رد المحتار میں ہے: لایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتھا۔کسی چیز کی نجاست کاحکم نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ اس کی حقیقت معلوم نہ ہو۔

سونے کا تالو عورتوں کو مطلقاً جائز ہے اور مردوں کو بضرورت یعنی جبکہ سونے میں کوئی خصوصیت محتاج الیہا ایسی ہو کہ چاندی وغیرہ سے حاصل نہ ہوسکتی ہو ورنہ دوسری دھات اختیار کریں چاندی کی حاجت ہو تو وہ ورنہ ایلومینیم یا جو مناسب ہو۔ در مختار میں ہے: لایشد سنہ المتحرک بذھب بل بفضۃ ویتخذ انفا منہ لان الفضۃ تنتنہ۔ ہلنے والے دانت کو سونے کے تاروں سے مضبوط نہ کیاجائے بلکہ چاندی استعمال کی جائے، ہاں البتہ سونے کی مصنوعی ناک بناکر لگائی جا سکتی ہے کیونکہ چاندی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔

ہدایہ میں ہے: الاصل فیہ التحریم والاباحۃ للضرورۃ وقد اندفعت بالفضۃ وھی الادنی فبقی الذھب علی التحریم والضرورۃ لم تندفع فی الانف دونہ حیث انتن۔ وﷲ تعالٰی اعلم۔ سونے کے استعمال میں اصل حرمت ہے اور اس کا مباح ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے کیونکہ چاندی سے یہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے اور اس کا استعمال بنسبت سونے کے قریب ہے، لہٰذا سونا اپنی حرمت پر باقی رہے گا، اور یہ ضرورت ناک لگانے میں بغیر سونے کے پوری نہیں ہوسکتی (لہٰذا سونے کی مصنوعی ناک لگانا جائز ہے) کیونکہ سونے کے علاوہ باقی دھاتوں میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اھ وﷲ تعالٰی اعلم (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 194، 195، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: LAR-11021
تاریخ اجراء: 25 شعبان المعظم 1443 ھ / 29 مارچ 2022 ء