logo logo
AI Search

مرتد والدین سے کیسا برتاؤ کیا جائے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مرتد والدین سے کیسا سلوک کیا جائے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے والد اسلام چھوڑ کر ہندو ہو گئے ہیں، یعنی مرتد ہو گئے ہیں ۔ مجھے اپنے مرتد والد کے حوالے سے اسلام کیا تعلیم دیتا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی والد نے معاذ اللہ، اسلام ترک کر کے ہندو مذہب اختیار کرلیا ہے، تو وہ شرعاً مرتد ہوگیا ہے، اور مرتد کا مسلمان پر کوئی حق نہیں ہے، مرتد کی اطاعت و فرمانبرداری، اور اس کے ساتھ حسن سلوک وغیرہ نہیں ہے۔ ہاں! مسلمان اولاد اپنے مرتد والد کے معاملے میں شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے، اسے اسلام کی دعوت دے، اس کے دوبارہ مسلمان ہونے کی کوشش کرے، اور اس کے لیے ہدایت کی دعا بھی کرتی رہے۔

فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ "اطاعت والدین و برادران واجب ہے یا فرض؟ اور درصورت ارتکاب ان کے یہ گناہ کبیرہ مثلاً زنا کرنا، چوری کرنا، ڈاڑھی منڈانا یا کتروانا ترکِ اطاعت واجب ہے یا اب بھی اطاعت کرنی چاہئے؟ اور اگر بعد ارتکاب کے لڑکا اپنے باپ سے یا چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کہے کہ ڈاڑھی منڈانا یا زنا کرنا یا چوری کرنا چھوڑدو، اور اس کے جواب میں وہ کہے کہ یہ تو ضرور کروں گا۔ اس حالت میں اطاعت کرے یا نہیں؟ اور اگر وہ شخص توبہ سے انکار کرے تو کافر ہوا یا نہیں؟"

تو امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے جوابا ارشاد فرمایا : اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں ان کے کبیرہ کا وبال ان پر ہے مگر اس کے سبب یہ اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہر نہیں ہوسکتا، ہاں اگر وہ کسی ناجائز بات کا حکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائز نہیں۔۔۔ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں، ان سے بہ نرمی و ادب گزارش کرے اگر مان لیں بہتر، ورنہ سختی نہیں کر سکتا، بلکہ غیبت میں ان کے لئے دعا کرے، اور ان کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ تو ضرور کروں گا یا توبہ سے انکار کرنا دوسرا سخت کبیرہ ہے مگر مطلقاً کفر نہیں جب تک کہ حرام قطعی کو حلال جاننا یا حکم شرع کی توہین کے طور پرنہ ہو، اس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے گی۔ ہاں اگر معاذ یہ انکار بر وجہ کفر ہو تو وہ مُرتد ہوجائیں گے، اور مُرتد کے لئے مسلمان پر کوئی حق نہیں۔ رہا بڑا بھائی وہ ان احکام میں ماں باپ کا ہمسر نہیں، ہاں اسے بھی حق تعظیم حاصل ہے اور بلاوجہ شرعی ایذا رسانی تو کسی مسلمان کی حلال نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 157، رضافاونڈیشن، لاہور)

فتاوی مصطفویہ میں سوال ہوا کہ "والدین اگر بے دین ہوں یا مرتد تو ان کا نفقہ لڑکے پر واجب ہے یا نہیں۔ یونہی والدین مرتدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اطاعت ضروری ہے یا نہیں ؟" تو اس کے جواب میں ہے: "والدین اگر کافر ذمی ہوں تو ان کا نفقہ ذمہ ولد مسلم موسر قضاً بھی واجب ہوگا جب کہ وہ کسب پر قادر نہ ہوں اور اگر ولد معسر تو صرف دیانۃ بقدر طاقت۔ اور حسن سلوک غیر کفر و معاصی میں ان کی اطاعت بعض صورتوں میں واجب بعض میں جائز۔۔۔غرض جو بات شرعا پسندیدہ و مقتضائے تکریم ہو اس میں اطاعت لازم یا جائز ہے معصیت میں ہرگز اطاعت نہ کی جائے اگرچہ والدین مسلمان ہوں۔۔۔۔ مرتد کا کوئی نفقہ نہیں جیسے حربی کا، یونہی مرتد کا بلکہ اس سے زیادہ، کہ مرتد سے تو نری معاملت بھی ناجائز ہے، کہ اس کے ساتھ صلہ، حسن سلوک، اس کی اطاعت شعاری، فرمانبرداری مرتد کے لیے نہیں مگر توبہ ورنہ تلوار۔ مرتد والدین حربی والدین سے بدتر ہیں ۔" (فتاوی مصطفویہ، صفحہ 112 تا115شبیر برادرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5404

تاریخ اجراء:28 ربیع الاول 1448ھ/11 ستمبر 2026ء