|
سودی قرض کی ضمانت دینا کیسا؟ |
|
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری |
|
تاریخ اجراء:ماہنامہ فیضان مدینہ صفر المظفر 1441ھ |
|
دارالافتاء اہلسنت |
|
(دعوت اسلامی) |
|
سوال |
|
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بینک سے قرضہ لینے والا ، قرضے کےحصول کےلیے کسی ایک دکاندار کو بطور ضامن پیش کرتاہے ، توسودی قرض لینےوالے کی ضمانت دینا کیسا ہے ، کیاضمانت دینے والا بھی گنا ہ گار ہوگا (سائل : محمد جمشید) |
|
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ |
|
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ |
|
ضمانت دینے والا بھی اس سودی معاہدے کا حصہ ہوتاہے ، اس کا نام اس معاہدے میں لکھا ہوتا ہے ، جب تک ضمانت دینے والا نہ ہو ، یہ معاہدہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا ضمانت دینے والا بھی براہ راست اس معاہدے میں معاون و مدد گار ہےاس بنیاد پر ضمانت دینے والا بھی گناہ گار ہوگا۔ |
|
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |