logo logo
AI Search

مال مضاربت پر زکوۃ لازم ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مال مضاربت پر زکوۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شر ع متین اس مسئلے میں کہ مالِ مضاربت سے جو مال خریدا گیا، اس مال پر زکوٰۃ لازم ہوگی یا نہیں؟ اور ہوگی تو کیا استعمال کے کمپیوٹر فرنیچر و دیگر غیر نامی چیزوں پر بھی زکوٰۃ لازم ہو گی ؟ سائل محمد اویس: (یونیورسٹی روڈ، کراچی)

جواب

مضاربت کے طور پر مال کسی کو دیا ہو تو کیش اور مالِ تجارت سمیت استعمال کے کمپیوٹر، فرنیچر وغیرہ پر بھی زکوٰۃ واجب ہو گی جبکہ زکوٰۃ فرض ہونے کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ مال مضاربت سے جو مال خریدا جائے، اس تمام مال میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اگرچہ حقیقۃً وہ مال بیچنے کی نیت سے نہ خریدا ہو کیونکہ مضارب، مالِ مضاربت سے جو چیز خریدے گا وہ تمام چیزیں تجارت کے لیے ہی شمار ہوں گی خواہ ان کو باقی رکھ کر بطور آلہ استعمال کرنا مقصد ہو جیسے فرنیچر، گاڑی، استعمال کے کمپیوٹر وغیرہ یا استعمال کے بعد وہ مال ختم ہو جائے جیسے مضاربت کے جانوروں کا چارہ وغیرہ، ان تمام اموال پر رب المال زکوٰۃ ادا کرے گا، ساتھ ہی اس نفع پر جو اس کام میں بن چکا ہے اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرے گا ۔ جبکہ مضارب صرف اپنے حصے کے بننے والے نفع پر زکوٰۃ نکالے گا۔

امام محمد علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”رجل دفع إلى رجل مالا مضاربة فاشترى ببعضه طعاما للتجارة وبما بقي منه حمولة الطعام ولا ينوي شيئًا، أو اشترى بعضه رقيقا وبما بقي طعاما لهم وكسوة فحال الحول فعلى رب المال زكاة رأس ماله وحصته من الربح وعلى المضارب زكاة حصته من الربح، ولو كان اشترى ذلك رب المال ولم يدفعه مضاربة لم يكن عليه في حمولة الطعام وطعام الرقيق وكسوتهم زكاة“ یعنی ایک شخص نے دوسرے کو مضاربت کے طور پر مال دیا اور اس نے بعض مال سے تجارت کے لیے اناج خریدا اور باقی مال سے اناج اٹھانے کے لیے سواری خریدی جس میں تجارت کی نیت نہیں کی یا بعض مال سے غلام خریدے اور باقی مال سے غلاموں کے کھانے کے لیے اناج اور کپڑے خریدے تو رب المال پر اس کے راس المال اور نفع میں سے اس کے حصے کی زکوٰۃ لازم ہے جبکہ مضارب پر اس کے حصے کے نفع کی زکوٰۃ لازم ہے اور اگر مالک نے رقم مضاربت پر نہ دی ہوتی بلکہ خود یہ چیزیں خریدی ہوتیں تو اناج اٹھانے کی سواری اور غلاموں کے کھانے اور کپڑے میں زکوٰۃ واجب نہ ہوتی۔ ( الجامع الکبیر ، صفحہ 21 ، مطبوعہ حیدر آباد دکن )

امام عتابی علیہ الرحمۃ اس کی شرح میں لکھتے ہیں: ”ولو دفع إلى رجل مالا مضاربة فاشترى ببعضها طعامًا للتجارة وببعضها حمولة للطعام أو اشترى ببعضها رقيقا وببعضها طعامًا وكسوة للرقيق فحال الحول والكل قائم وفي المال ربح فعلى رب المال زكاة رأس المال، وزكاة حصته من الربح. وعلى المضارب زكاة حصته من الربح من جميع ذلك أن تبلغ نصابا، والمالك لو اشترى ذلك بنفسه لا تجب عليه الزكاة في الحمولة وطعام الرقيق وكسوتهم إذا لم ينو التجارة؛ لأن المالك ملك الشراء مطلقا فلا يقع للتجارة إلا بالنية، أما المضارب لا يملك إلا التجارة فيحمل مطلق تصرفه على ما يملك“ یعنی اگر کسی شخص نے دوسرے کو مضاربت پر مال دیا اور مضارب نے بعض مال سے تجارت کے لیے غلہ خریدا جبکہ بعض مال سے غلہ اٹھانے کے لیے سواری خریدی یا بعض مال سے غلام خریدے اور بعض مال سے غلاموں کے لیے اناج اور کپڑے خریدے پھر سال گزر گیا اور سارا مال باقی تھا اور مال میں نفع ہو چکا تھا تو رب المال پر اس کے راس المال کی اور نفع میں سے اس کے حصے کی زکوٰۃ لازم ہے اور مضارب پر اس کے حصے کے نفع کی زکوٰۃ واجب ہے اگر مال نصاب تک پہنچتا ہو۔ مالک خود یہ چیزیں خریدتا تو سواری اور غلاموں کے اناج اور کپڑوں میں زکوٰۃ لازم نہ ہوتی جبکہ ان سے تجارت کی نیت نہ کی ہوتی کیونکہ مالک مطلقاً خریداری کر سکتا ہے تو اس کی خریداری پر تجارت کی تعیین نیت سے ہی ممکن ہے لیکن مضارب صرف تجارت کر سکتا ہے تو اس کا مطلق تصرف بھی تجارت پر محمول ہوگا۔ ( شرح الجامع الکبیر للعتابی ، جلد 1 ، صفحہ 330 ، دار النصیحۃ )

بدائع الصنائع میں ہے: ”لو اشترى المضارب بمال المضاربة عبيدا ثم اشترى لهم كسوة وطعاما للنفقة كان الكل للتجارة. وتجب الزكاة في الكل؛ لأن نفقة عبيد المضاربة من مال المضاربة فمطلق تصرفه ينصرف إلى ما يملك دون ما لا يملك حتى لا يصير خائنا وعاصيا عملا بدينه وعقله، وإن نص على النفقة، وبمثله المالك إذا اشترى عبيدا للتجارة ثم اشترى لهم ثيابا للكسوة وطعاما للنفقة فإنه لا يكون للتجارة؛ لأن المالك كما يملك الشراء للتجارة يملك الشراء للنفقة والبذلة وله أن ينفق من مال التجارة وغير مال التجارة فلا يتعين للتجارة إلا بدليل زائد“ یعنی اگر مضارب نے مالِ مضاربت سے غلام خریدے پھر ان کے لیے کپڑے اور اناج بطور نفقہ خریدے تو یہ سب تجارت کے لیے شمار ہوں گے اور سب میں زکوٰۃ واجب ہو گی کیونکہ مضاربت کے غلاموں کا نفقہ مالِ مضاربت سے دیا جائے گا تو مضارب کا مطلق تصرف اسی پر محمول ہوگا جو کام وہ کر سکتا ہے نہ اس کی طرف کہ جس کام کو وہ نہیں کر سکتا تاکہ مضارب اپنے دین اور عقل سے کام کرنے والا ہو اور خائن و گنہگار نہ ہو اگرچہ نفقہ وغیرہ کی صراحت کر دی ہو۔ جبکہ مالک نے خود تجارت کے لیے غلام خریدے ہوتے پھر ان کے لیے لباس اور کھانے کے لیے اناج خریدتا تو تجارت کے لیے نہ ہوتے کیونکہ مالک جیسے تجارت کے لیے خرید سکتا ہے یونہی نفقہ اور عام استعمال کے لیے بھی خرید سکتا ہے اور اسے شرعاً مالِ تجارت اور غیر مالِ تجارت خریدنے کی اجازت ہے تو اس کا عمل تجارت کے لیے تبھی متعین ہوگا جب زائد دلیل موجود ہو۔ ( بدائع الصنائع ، جلد 2 ، صفحہ 13 ، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت )

بہارشریعت میں ہے: ”مضارب مالِ مضاربت سے جو کچھ خریدے، اگرچہ تجارت کی نیّت نہ ہو، اگرچہ اپنے خرچ کرنے کے لیے خریدے، اس پر زکاۃ واجب ہے یہاں تک کہ اگر مالِ مضاربت سے غلام خریدے پھر ان کے پہننے کو کپڑا اور کھانے کے لیے غلّہ وغیرہ خریدا تو یہ سب کچھ تجارت ہی کے لیے ہیں اور سب کی زکاۃ واجب۔“ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 884، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری

فتوی نمبر: Faj-8162

تاریخ اجراء: 01 رجب المرجب 1445 ھ/13 جنوری 2024ء