logo logo
AI Search

اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے پچھلی صف میں نماز پڑھنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے پچھلی صف میں اقتدا کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر معلوم ہو کہ اگلی صف میں جائیں گے تو رکعت نکل جائے گی، تو کیا رکعت پانے کیلئے اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے پچھلی صف میں کھڑے ہو کر امام کی اقتدا کی جا سکتی ہے؟

جواب

شریعت اسلامیہ کی رو سے ” اتمامِ صف “ یعنی صفوں کو اس طرح مکمل کرنا کہ کسی بھی صف میں دونوں کناروں یا درمیان سے جگہ خالی نہ رہ جائے، یہ صف کے واجبات میں سے ہے، جس پر احادیث مبارکہ میں بہت تاکید فرمائی گئی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے والوں کے لئےسخت وعیدات بیان کی گئی ہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب تک اگلی صف دونوں کناروں تک مکمل نہ ہو جائے، تب تک مقتدی کا پچھلی صف میں نماز شروع کرنا، مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، اگرچہ رکعت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، البتہ اگر کسی نے اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے دوسری صف میں امام کی اقتدا کر لی، تو گناہ ہونے کے باوجود اس کی اقتدا درست ہو جائے گی، اس لیے کہ اقتدا کے معاملے میں پوری مسجد بُقعۂ واحدہ، یعنی ایک مکان کے حکم میں ہوتی ہے اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے اقتدا کے درست ہونے کے لیے امام اور مقتدی کا ایک جگہ ہونا شرط ہے، لہٰذا اس شرط کے پائے جانے کی وجہ سے اس کی اقتدا درست ہو جائے گی اور نماز بھی ادا ہو جائے گی لیکن حکمِ شرعی یہی ہے کہ رکعت جانے دے لیکن صف میں جگہ چھوڑ کر پیچھے کھڑا نہ ہو بلکہ اگلی صف ہی کو مکمل کرے۔

نماز میں صفوں کو مکمل کرنے کے متعلق مسندِ احمد میں حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ”أقيموا الصفوف، فإنما تصفون بصفوف الملائكة وحاذوا بين المناكب، وسدوا الخلل، ولينوا في أيدي إخوانكم، و لا تذروا فرجات للشيطان، ومن وصل صفا، وصله اللہ تبارك وتعالىٰ، ومن قطع صفا قطعه اللہ تبارك وتعالى“ ترجمہ: صفوں کو سیدھا کرو، کیونکہ تم ملائکہ کی صفوں کی طرح صفیں بناتے ہو اور اپنے کندھوں کو برابر کرو اور صفوں کی خالی جگہوں کو پورا کرو اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہیں نہ چھوڑو اور جس نے صف کو ملایا اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جس نے صف کو قطع کیا، اللہ تعالیٰ اس کو قطع فرمائے گا۔ (مسند احمد، جلد 10، صفحہ 17، رقم الحدیث 5724، مؤسسۃ الرسالہ)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”دربارہ صفوف شرعاً تین باتیں بتاکیداکید مامور بہ ہیں اور تینوں آج کل معاذ اللہ کالمتروک ہو رہی ہیں، یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نا اتفاقی پھیلی ہوئی ہے۔۔۔ اول: تسویہ کہ صف برابر ہو، خم نہ ہو، کج نہ ہو، مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں، سب کی گردنیں شانے ٹخنے آپس میں محاذی ایک خط مستقیم پر واقع ہوں، جو اس خط پر کہ ہمارے سینوں سے نکل کر قبلہ معظمہ پر گزرا ہے عمود ہو۔۔۔ دوم: اتمام کہ جب تک ایک صف پوری نہ ہو دوسری نہ کریں ۔۔۔۔ سوم: تراصّ یعنی خوب مل کر کھڑا ہونا کہ شانہ سے شانہ چھلے، یہ بھی اسی اتمام صفوف کے متممات سے اور تینوں امر شرعاً واجب ہیں ۔“ (ملتقطاً از فتاویٰ رضویہ، جلد 07، صفحہ 219 تا 223، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

رکعت پانے کے لیے پچھلی صف میں نماز شروع کر دینے کی ممانعت کے متعلق صحیح بخاری میں ہے: ’’عن ابی بکرۃ أنہ انتھی الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھو راکع فرکع قبل ان یصل الی الصف فذکر ذلک للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال زادک اللہ حرصا ولا تعد‘‘ ترجمہ: حضرت ابو بکرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس آئے، جبکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رکوع میں تھے، پس انہوں نے (رکعت پانے کے لئے) صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کر دیا پھر اس کا ذکر نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کیا گیا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تمہارا حرص زیادہ کرے اور آئندہ ایسا نہ کرنا۔ (الصحیح البخاری، کتاب الاذان، باب اذا رکع دون الصف، جلد 1، صفحہ 156، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں: ”قوله: (لا تعد) عندنا يحتمل معنين: يحتمل ولا تعد أن تركع دون الصف حتى تقوم في الصف، كما قد روى عن أبي هريرة، رضي اللہ تعالى عنه، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: (إذا أتى أحدكم الصلاة فلا يركع دون الصف حتى يأخذ مكانه من الصف) ويحتمل أي ولا تعد أن تسعى إلى الصف سعيا يحفزك فيه النفس“ ترجمہ: ہمارے نزدیک "ولاتعد " کے دو معنی ہیں: ایک احتمال یہ ہے کہ آئندہ صف سے پیچھے رکعت میں شامل نہ ہونا ، یہاں تک کہ صف میں پہنچ جاؤ ، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جب تم سے کوئی نماز کے لیے آئے ، صف سے پیچھے نماز میں شامل نہ ہو ، یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر صف میں پہنچ جائے اور دوسرا احتمال یہ ہےکہ صف کی طرف یوں دوڑتے ہوئے نہ آنا کہ جس سے سانس پھولنے لگے (بلکہ وقا ر اور اطمینان کے ساتھ آؤ)۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، صفحہ 55، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بیروت)

رکعت پانے کے لیے اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے پچھلی صف میں نماز شروع کر لینا مکروہ تحریمی ہے ، جیسا کہ بدائع الصنائع، شرح مختصر الکرخی اور فتاوی تاتار خانیہ میں ہے: والنظم للاول: ”ويكره لمن أتى الامام ‌وهو ‌راكع أن يركع دون الصف وإن خاف الفوت لما روي ‌عن ‌أبي ‌بكرة“ ترجمہ: اور یہ عمل مکروہ ہے کہ کوئی شخص امام کو رکوع کی حالت میں پائے اور صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی نماز شروع کر لے، اگرچہ اسے رکعت فوت ہونے کا خوف ہو، حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان کی گئی ممانعت کی وجہ سے۔ (بدائع الصنائع ، کتاب الصلاۃ، فصل بیان مایستحب ومایکرہ ، جلد 1، صفحہ 218، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

سوال میں مذکور صورت کے متعلق حبیب الفتاویٰ میں ہے: ”سوال یہ ہے کہ مسجد بڑی ہے، بائیں جانب وضو کا اہتمام ہے، داہنے طرف صف اول میں جگہ خالی ہے اور امام رکوع میں ہیں، اتنے میں ایک شخص تنہا صف ثانی میں امام کے ساتھ رکوع میں چلا گیا، ایسی حالت میں نماز ہوئی یا نہیں؟ اگر وہ صف اول میں جاتا ہے تو اس کی رکعت چلی جائے گی۔ تو جواباً فرمایا: شخص مذکور کے لیے ضروری تھا کہ یہ رکعت ملتی یا نہیں ، پہلی ہی صف میں داہنی جانب جا کر کھڑا ہوتا ۔۔۔اس کے باوجود اس کی نماز ہوگئی۔“ (ملتقطاً از حبیب الفتاویٰ جلد 1، صفحہ 428، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)

اگلی صف مکمل کئے بغیر پچھلی صف میں نماز شروع کر دینے سے اقتدا درست ہو جانے کے متعلق علامہ زَبِیدی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 800ھ/1397ء) لکھتے ہیں: ”ولو اقتدى بالامام في أقصى المسجد والامام في المحراب جاز، لأن المسجد وإن اتسع فحكمه حكم ‌بقعة ‌واحدة“ ترجمہ: اور اگر کسی نے مسجد کے آخر میں امام کی اقتداء کی اور امام محراب میں ہو، تو اُس کی اقتداء جائز ہے، کیونکہ مسجد اگرچہ بہت وسیع ہو، تب بھی وہ بقعہ واحدہ یعنی ایک مکان کے حکم میں ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 167، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”امام و مقتدی کا مکان واحد ہونا شرط صحت اقتدا ہے۔۔۔ مسجد مکان واحد ہے اگر اس کے ایک حصہ میں امام ہو اور دوسرے میں مقتدی تو اس کو حقیقۃ اختلاف نہیں کہا جا سکتا اور نہ یہ مانع صحت اقتدا ہے۔“ (ملتقطاً از فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 171، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر:OKR-0320

تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1448ھ/13 اگست 2026ء