تین حیض تک حق زوجیت ادا نہ ہونے پر نکاح کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
تین حیض تک میاں بیوی حقِ زوجیت نہ ادا کریں، تو کیا نکاح کمزور ہوتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر میاں بیوی تین حیض تک حق زوجیت ادا نہ کرے تو کیا اس کی وجہ سے ان کا نکاح کمزور ہو جاتا ہے؟
جواب
جب تک نکاح ختم کرنے والی کوئی صورت مثلاً طلاق،خلع، ایلا وغیرہ نہ پائی جائے، میاں بیوی کے فقط ایک دوسرے سے دور رہنے اور میاں بیوی والے تعلقات قائم نہ کرنے کی وجہ سےنہ نکاح ٹوٹتا ہے اور نہ ہی کمزور ہوتا ہے خواہ یہ دونوں تین حیض ایک دوسرے سے الگ رہیں یا اس سے زیادہ عرصہ۔ البتہ یہ بات واضح رہے کہ مرد پر بہرحا ل لازم ہے کہ وہ عورت کے حقوق ادا کرے، خود کو اور اسے پریشان نظری سے بچائے اور گاہے بگاہے اس سے جماع کرتا رہے تاکہ خود مرد کی اور اس کی زوجہ کی نظر کسی اور کی طرف نہ اٹھے، بلاعذر بیوی کی اجازت کے بغیر چار ماہ سے زائد اس سے دور رہنا، جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر بیوی بھی راضی ہو اور دونوں میں سے کسی کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی نہ ہو تو چار ماہ سے زائد عرصہ ہمبستری نہ کرنے میں بھی حرج نہیں۔
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بالجملہ عورت کو نان ونفقہ دینا بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب، جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو، اور اسے معلقہ کردینا حرام، اور بے اس کے اذن و رضا کے چار مہینے تک ترکِ جماع بلاعذرِصحیح شرعی ناجائز۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 446، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ جماع قضاءً واجب ہے اور دیانۃً یہ حکم ہے کہ گاہے گاہے کرتا رہے اور اس کے ليے کوئی حد مقرر نہیں، مگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظرا وروں کی طرف نہ اُٹھے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، صفحہ 95، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2619
تاریخ اجراء: 27 جمادی الاولٰی 1447ھ / 19 نومبر 2025ء