سوتیلی ماں کے والد سے نکاح کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سوتیلی ماں کے والد سے نکاح کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
سوتیلی ماں کے باپ سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، جبکہ حرمت کا کوئی اور سبب مثلاً رضاعت وغیرہ نہ پایا جائے، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصریحات کے مطابق سوتیلی ماں کا باپ اپنا، نانا نہیں ہے، لہٰذا اس سے عورت کا نکاح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”سوتیلی ماں کا باپ نہ اپنا، نانا، نہ سوتیلی ماں کی بہن اپنی خالہ، سوتیلی ماں کی حقیقی ماں یا بہن یا بیٹی سب سے نکاح جائز ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 11، صفحہ 333، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2584
تاریخ اجراء: 15 جمادی الاولٰی 1447ھ / 07 نومبر 2025ء